ایران کے چابہار پورٹ میں ہندوستان کی سرمایہ کاری پر امریکہ نے سخت حملہ کیا ہے۔ امریکہ نے چابہار بندرگاہ پر کم از کم 3 میزائلیں داغی ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پر اس بندرگاہ کے ایک ٹاور کو منہدم کیے جانے کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹاور میزائل کے تیسرے حملے میں تباہ ہوا۔ چابہار پورٹ پر امریکہ کی طرف سے ہوئی اس کارروائی کے بعد ایک بار پھر اس پروجیکٹ کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔Iran's Chabahar port control tower COLLAPSES after more than a week of US strikes — Pete Hegseth boasts of destruction in X photoIranian FM Araghchi calls the attacks one of many US 'war crimes' committed over the past week pic.twitter.com/lDBz6ufJ5j— RT (@RT_com) July 17, 2026قابل ذکر ہے کہ چابہار بندرگاہ ہندوستان کے لیے صرف ایک بندرگاہ نہیں، بلکہ دوسرے ممالک تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم راستہ ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان کئی برسوں سے اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ قدم ہندوستان کی طویل مدتی منصوبہ بندی کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس سے چابہار پورٹ کی اہمیت کم نہیں ہوگی۔ چابہار پورٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ہندوستان اس بندرگاہ کے ذریعے پاکستان کا راستہ استعمال کیے بغیر افغانستان اور وسطی ایشیا تک اپنے سامان بھیج سکتا ہے۔ اس سے تجارت آسان ہوتی ہے اور وقت کی بچت بھی ہوتی ہے۔ چابہار پورٹ ہندوستان کو یورپ اور دوسرے ممالک تک رسائی حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ اسی لیے حکومت ہند اسے صرف ایک بندرگاہ نہیں، بلکہ ملک کی تجارت اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ مانتی ہے۔Tensions rise: US reportedly launches major attack on Iran's Chabahar Port, developed by India. Control tower demolished. Iran MP warns: "If US attacks by land, we will kill their soldiers." India's strategic interests at stake. #Iran #Chabahar #US pic.twitter.com/aTcv19WQBb— Pandurang Dhond (@PandurangDhond7) July 18, 2026سابق سفارت کار دیپک ووہرا کا کہنا ہے کہ چابہار پورٹ پر امریکہ کی تازہ کارروائی صرف ایران تک محدود نہیں ہے۔ اس حملہ کا مقصد ہندوستان کے ان منصوبوں کو دھیما کرنا ہے، جس سے ملک کی گرفت دنیا میں مضبوط ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چابہار پورٹ ہندوستان کے کاروبار، توانائی ضرورتوں اور دوسرے ممالک سے وابستگی کے منصوبوں کا اہم حصہ ہے۔ اس لیے اس پروجیکٹ پر بار بار دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی کارروائی سے اس پروجیکٹ کی رفتار کچھ وقت کے لیے متاثر ہو سکتی ہے، لیکن اس سے ہندوستان پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔ ہندوستان پہلے بھی اس قسم کے مشکل حالات میں اس منصوبے کو آگے بڑھاتا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر ہندوستان دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور متوازن خارجہ پالیسی اپناتا ہے تو چابہار پورٹ آگے بھی ہندوستان کے لیے اتنا ہی اہم بنا رہے گا۔