بوشہر جوہری پلانٹ پر امریکی حملوں کے نقصانات کی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آ گئیں

Wait 5 sec.

تہران(18 جولائی 2026): ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر امریکی حملوں کے نقصانات کی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آ گئیں۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایک خصوصی رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیلات جاری کی ہیں۔الجزیرہ کی جانب سے شیئر کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں بوشہر جوہری پلانٹ کے احاطے میں 7 جولائی سے 12 جولائی کے درمیان نئے حملوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔تصاویر میں کمپلیکس کے اندر زمین پر بننے والے گڑھے اور قریبی معاون تنصیبات میں ایک اور حملے کی جگہ کو دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان سیٹلائٹ تصاویر کا نقشہ ایران میں ہونے والے حالیہ حملوں کی زمینی ویڈیوز اور امریکی سینٹ کام کی معلومات کا جائزہ لے کر تیار کیا گیا ہے۔دوسری جانب، صوبہ بوشہر کے نائب گورنر احسان جہانیان کا کہنا ہے کہ 9 جولائی کو صوبے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بوشہر جوہری بجلی گھر کے اطراف، چوغادک کا ایک فوجی مرکز اور جنوبی ساحلی ماہی گیری کی بندرگاہ شامل تھیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جوہری بجلی گھر کا ری ایکٹر متاثر نہیں ہوا اور وہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔سینٹ کام کے مطابق 7 اور 8 جولائی کو ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل و ڈرون ذخائر، بحری اثاثے اور فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ تاہم امریکی حکام نے بوشہر یا کسی اور جوہری مرکز کو ہدف بنانے کا نام ظاہر نہیں کیا۔بوشہر جوہری پلانٹ پر اسرائیلی حملہ چرنوبل جیسے سانحے کا سبب بن سکتا ہے، روس نے خبردار کردیاواضح رہے کہ بوشہر ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر ہے، جس میں ایک فعال اور ایک نامکمل ری ایکٹر موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرکز میں جوہری ایندھن اور تابکار مواد موجود ہونے کے باعث اس کے کولنگ نظام، بجلی کی فراہمی یا حفاظتی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ریکارڈ کے مطابق 2026 میں مارچ اور اپریل کے دوران بھی بوشہر پلانٹ کے قریب متعدد حملوں اور گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، تاہم ایران نے ہر بار ری ایکٹر کو محفوظ اور فعال قرار دیا۔آئی اے ای اے نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کبھی بھی مسلح حملوں کا ہدف نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اس کے سنگین انسانی، ماحولیاتی اور علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔