کرناٹک میں قائم ہوگی ہندوستان کی پہلی سرکاری اے آئی یونیورسٹی، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کا اعلان

Wait 5 sec.

بنگلورو: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں ہندوستان کی پہلی سرکاری اے آئی (مصنوعی ذہانت) یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد عالمی معیار کے ماہرین تیار کرنا، جدید تحقیق کو فروغ دینا اور تعلیم، صنعت اور حکومت کے درمیان اشتراک کو مزید مضبوط بنانا ہے تاکہ ریاست کو ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہو۔بنگلورو بین الاقوامی نمائش مرکز میں منعقدہ گوگل آئی او کنیکٹ انڈیا 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ یونیورسٹی مصنوعی ذہانت کی تعلیم، تحقیق اور اختراع کا ایک جامع مرکز ہوگی، جہاں طلبہ، محققین اور صنعت سے وابستہ ادارے مل کر نئی ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر انہوں نے ایک مصنوعی ذہانت مرکز کے قیام کا بھی اعلان کیا، جو تحقیق و ترقی کے لیے انکیوبیشن مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ اس مرکز کے ذریعے نئی کمپنیوں، صنعتی اداروں، تعلیمی تنظیموں اور اختراع کاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا تاکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ٹیکنالوجیز اور خدمات کی تیاری کو فروغ مل سکے۔ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی سب سے بڑی تکنیکی تبدیلی ہے اور اس کا اثر بھاپ کے انجن، بجلی، انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی جیسی تاریخی ایجادات کے برابر ہوگا۔ ان کے مطابق بنگلورو پہلے ہی دنیا کے نمایاں اختراعی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور ریاستی حکومت اسے ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کا عالمی مرکز بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔زمین کا پانی نگلنے والا کاروبار...ہرجندرانہوں نے بتایا کہ کرناٹک ملک کی مجموعی سافٹ ویئر برآمدات میں تقریباً چالیس فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ صرف بنگلورو میں 17 ہزار سے زیادہ نئی کمپنیاں اور ہزاروں عالمی صلاحیتی مراکز سرگرم ہیں، جو دنیا بھر کے لیے جدید تکنیکی مصنوعات اور خدمات تیار کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ہدف کرناٹک کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنا ہے، جہاں سرکاری انتظام، عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں میں اس ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے اساتذہ کو بہتر تدریسی سہولیات، ڈاکٹروں کو بیماریوں کی بروقت تشخیص، کسانوں کو جدید زرعی مشورے، شہریوں کو تیز رفتار سرکاری خدمات اور چھوٹے کاروباری اداروں کو مسابقتی صلاحیت حاصل ہوگی۔الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ، اہم پرزوں اور مشینری پر کسٹم ڈیوٹی میں رعایتانہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں ڈیٹا مراکز، وسیع پیمانے کی کمپیوٹنگ سہولیات اور تحقیقی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق اور اختراع کو مزید رفتار مل سکے۔ انہوں نے گوگل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے بنگلورو کو اپنے اہم عالمی انجینئرنگ، تحقیق اور اختراع کے مراکز میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے گوگل سے اپیل کی کہ وہ تعلیم، صحت، زراعت، بہتر حکمرانی، نئی کمپنیوں کی سرپرستی اور طلبہ کی تربیت کے شعبوں میں ریاست کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دے تاکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔