واشنگٹن (14 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی لِنڈسے گراہم کی اچانک موت کا معمہ حل ہو گیا اور موت کی اصل وجہ پتہ چل گئی۔گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور سینیٹر 71 سالہ لِنڈسے گراہم کی موت اس وقت اچانک واقع ہوئی، جب وہ یوکرین کے دورے سے چند گھنٹے قبل ہی واپس آئے تھے۔ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی تھی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی اصل وجہ سامنے آ گئی، جو ایک ایک جان لیوا طبی کیفیت ایورٹا کے باعث ہوئی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کولمبیا ڈسٹرکٹ کے فرانزک شعبے کی ابتدائی رپورٹ سینیٹر لِنڈسے گراہم کی موت کی وجہ "ایورٹک ڈائسیکشن” (Aortic Dissection) یعنی شہ رگ کا پھٹنا بتایا گیا ہے۔یہ سب شریانوں کے سخت ہونے اور خون کی نالیوں کی بیماری (ایتھروسکلروسس) کے نتیجے میں ہوا۔رپورٹ کے مطابق یہ کیفیت قلبی اور عروقی شریانوں کے سخت ہونے (ایٹروسکلروسیس) کے باعث پیدا ہوئی، جس کا تعلق عموماً ہائی بلڈ پریشر سے ہوتا ہے۔یہ عروقی امراض میں سب سے خطرناک طبی ہنگامی صورتحال ہے، جس میں فوری تشخیص و علاج نہ ہونے پر چند گھنٹوں میں موت واقع ہو سکتی ہے۔تاہم ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گراہم کی موت کے سرٹیفکیٹ کو اس وقت تک حتمی شکل نہیں دی جائے گی جب تک زہریلے مادوں کے تمام ٹیسٹ اور خوردبینی (مائیکروسکوپک) معائنے مکمل نہیں ہو جاتے۔دوسری جانب امریکی سوسائٹی فار ویسکولر سرجری کے مطابق ایورٹک ڈائسیکشن انسانی جسم کی سب سے بڑی شریان (شہ رگ) کی اندرونی تہہ میں پھٹ جانے کا نام ہے۔ اس سے خون شریان کی دیواروں کے درمیان رستا ہے، جو اہم اعضا تک خون کی فراہمی میں رکاوٹ بنتا ہے یا اندرونی خون بہنے کا باعث بنتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ٹرمپ کے قریبی ساتھی سینیٹر لنزے گراہم کا اچانک انتقال