واشنگٹن (20 جولائی 2026): امریکیوں کو مارنے کے رد عمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر رات کو امریکی فوج نے ایران پر شدید حملہ کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آج رات ایران پر شدید حملہ کیا گیا ہے، جو امریکیوں کو مارنے کا ردعمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس ہے، جو فوجی مارے گئے وہ اس مقصد کے لیے لڑ رہے تھے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔سینٹکام نے بتایا کہ ایران پر مسلسل نویں رات فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا گیا ہے، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔سینٹ کام کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر شام 7 بجے فضائی حملے شروع کیے گئے، یہ امریکی حملے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے جاری رہیں گے۔CENTCOM began conducting a new wave of strikes against Iran at 7 p.m. ET today for the ninth consecutive night. The strikes will continue degrading Iranian military capabilities used to attack commercial vessels and civilian mariners transiting the Strait of Hormuz.— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 19, 2026دوسری طرف ایرانی سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ جنوبی ایران کے صوبے ہرمزگان، بوشہر اور جنوبی شہر خورموج میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔امریکا 3 فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود سفارتی حل کے لیے تیار ہے، مارکو روبیوتسنیم خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملوں کی نئی لہر کا اعلان کیے جانے کے فوراً بعد ایران کے 5 شہروں میں، جن میں شمال مغرب کا بڑا شہر تبریز اور 2 اہم بندرگاہیں بھی شامل ہیں، دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔عینی شاہدین اور مقامی رپورٹرز نے تسنیم کو بتایا کہ تبریز، جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کنارک، نیز جنوب مغربی توانائی کے مراکز بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔یہ اطلاعات اس کے چند ہی منٹ بعد سامنے آئیں جب سینٹ کام نے کہا کہ اس نے ایرانی اہداف کے خلاف حملوں کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنا ہے۔