تیل کی عالمی مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

Wait 5 sec.

(15 جولائی 2026): عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی سے تیل کی عالمی مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے روزانہ 2 کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، خلیجی ممالک نے بحران کے دوران متبادل راستے استعمال کیے، سعودی عرب نے ریڈ سی بندرگاہ تک تیل پائپ لائن سے بھیجا۔رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے آبنائے ہرمز سے باہر الفجیرہ بندرگاہ کو استعمال کیا، یہ متبادل آبنائے ہرمز کے نقصان کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی پورا کر سکے، خلیج کے علاقے میں ریفائنڈ مصنوعات کی پیداوار بھی نمایاں کم ہوئی۔آئی ایم ایف نے کہا کہ بحران میں ڈیزل اور جیٹ فیول سب سے زیادہ متاثر ہوئے، متاثرہ خطے کا عالمی سپلائی میں تقریباً 10 فیصد حصہ ہے، دہائیوں کی بڑی عالمی تیل مارکیٹ خلل کے باوجود قیمتیں آسمان پر نہیں گئیں، خام تیل کی قیمتیں اضافے کے بعد 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کی حد میں مستحکم ہوئیں۔’ماہرین کے خدشات سے کہیں کم قیمتوں کی وجہ کئی عوامل کا مل کر ابتدائی جھٹکا کم کرنا تھا۔ اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے جھٹکے برداشت کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے۔‘