ہر سال جیسے ہی مانسون دستک دیتا ہے، ویسے ہی ڈینگو کا قہر بھی بڑھنے لگتا ہے۔ بارش کے موسم میں ڈینگو لاکھوں لوگوں کو اپنی زد میں لے لیتا ہے۔ ڈینگو کے مریضوں سے اسپتالوں کا بھر جانا تو اب جیسے عام بات ہو گئی ہے۔ کئی معاملات میں تو مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہو جاتی ہے۔ سال بہ سال یہ مسئلہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اس دوران اب ہندوستان کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر آئی ہے۔ دراصل ہندوستان میں پہلی بار ڈینگو سے بچاؤ کے لیے ایک ویکسین کو منظوری مل گئی ہے۔ اس ویکسین کا نام ’کیوڈینگا‘ ہے، جسے جاپان کی فارما کمپنی ’ٹاکیڈا‘ نے تیار کیا ہے۔ ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) نے اسے 4 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں کے لیے منظوری دی ہے۔India has approved its first #dengue #vaccine, with the Drug Controller General of India (DCGI) granting market authorisation to vaccine QDENGA, developed by Takeda Biopharmaceuticals India.The vaccine is approved for people aged 4 to 60 years and can be given regardless of… pic.twitter.com/zrN355FLWE— The Times Of India (@timesofindia) July 20, 2026واضح رہے کہ ’کیوڈینگا‘ ہندوستان میں منظور ہونے والی پہلی ڈینگو ویکسین ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ اسے لگوانے سے پہلے یہ ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ اس شخص کو پہلے کبھی ڈینگو ہوا ہے یا نہیں۔ یعنی یہ ویکسین کسی کو بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اگر کسی کو پہلے ڈینگو ہو چکا ہے، اسے بھی یہ لگائی جا سکتی ہے اور اگر پہلے ڈینگو نہیں ہوا ہے تب بھی اسے لگایا جا سکتا ہے۔ اس ویکسین کو 4 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں کے لیے منظوری ملی ہے۔ مجموعی طور پر اس کی 2 ڈوز لگیں گی، دونوں ڈوز کے درمیان 3 مہینے کا وقفہ ہوگا۔ یہ ویکسین جلد کے نیچے (سب کیوٹینیئس) لگائی جائے گی۔دہلی: رواں سال اب تک ڈینگو کے 162، ملیریا کے 42 اور چکن گونیا کے 9 کیسز درج کیے گئےہندوستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ڈینگو کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر کے کل ڈینگو کیسز کا تقریباً ایک تہائی بوجھ ہندوستان پر ہے۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں ہندوستان میں ڈینگو کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں تقریباً 11 گنا اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں ملک بھر میں ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کیسز درج کیے گئے تھے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ڈینگو وائرس کی 4 مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ’کیوڈینگا‘ کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ ان چاروں اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کرنے میں مدد کرے۔ کمپنی کے مطابق ’کیوڈینگا‘ پر اب تک سب سے بڑے پیمانے پر ریسرچ کی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کا اب تک 28000 سے زیادہ لوگوں پر تجربہ کیا جا چکا ہے۔ کلینیکل ٹرائلز میں دوسری خوراک لینے کے 12 ماہ بعد یہ ڈینگو سے بچاؤ میں 80.2 فیصد تک اثر دار پائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈینگیو کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو 90.4 فیصد تک کم کرنے میں بھی یہ کامیاب رہی ہے۔ طویل مدتی اعداد و شمار میں بھی اس کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ساڑھے چار سال بعد بھی یہ ڈینگو کے باعث اسپتال میں داخل ہونے سے بچانے میں 84.1 فیصد تک اثر دار رہی، جبکہ 7 سال تک اس کا تحفظ اور افادیت برقرار رہنے کے شواہد ملے ہیں۔عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) پہلے ہی ’کیوڈینگا‘ کی سفارش کر چکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں ڈینگو کا خطرہ زیادہ ہے، وہاں اس ویکسین کو عوامی ٹیکہ کاری پروگرام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس ویکسین کو ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفیکیشن بھی مل چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کوالٹی، حفاظت اور افادیت کے معاملے میں بین الاقوامی معیاروں پر پوری اتری ہے۔ ’کیوڈینگا‘ کو اب تک ہندوستان سمیت 43 ممالک میں منظوری مل چکی ہے۔ کمپنی کے مطابق دنیا بھر میں اس کی 3.2 کروڑ (32 ملین) سے زیادہ خوراکیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ برازیل، ارجنٹائنا، کولمبیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں اسے پبلک ویکسینیشن پروگرام کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین ڈینگو سے بچاؤ کا ایک مضبوط طریقہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مچھروں سے بچاؤ بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے:گھر کے آس پاس پانی جمع نہ ہونے دیں۔پوری آستین کے کپڑے پہنیں۔مچھر دانی اور مچھر بھگانے والے طریقے اپنائیں۔تیز بخار، جسم میں درد یا پلیٹلیٹس کم ہونے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔