تہران (14 جولائی 2026): نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایران میں اسرائیل کے رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے، تاہم نژاد نے اس خبر کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اس خبر کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے انھیں حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کے لیے بھرتی کیا اور بعد میں انھیں نظر بند کر دیا گیا۔احمدی نژاد کے ترجمان نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ ہالی ووڈ کی کہانی کی طرح ہے اور اس کی تردید کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اخبار رقم کے عوض من گھڑت مضامین اور رپورٹس شائع کرنے پر بھی آمادہ رہتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ احمدی نژاد معمول کے مطابق سرگرم ہیں اور اپنی روزمرہ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کب شروع ہوگی؟واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کے کئی برسوں پر محیط منصوبے کے تحت اسرائیل نے احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کی، حالاں کہ اُن کی شہرت اسرائیل مخالف اور ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والے ایرانی رہنما کی تھی۔محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے اور اس دوران انھوں نے امریکا اور اسرائیل پر سخت تنقید کی اور ایران نے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی۔ رپورٹ کے مطابق موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا خود احمدی نژاد کو ایران میں اقتدار دلانے کی کوششوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ہنگری نے نژاد کو 2024 میں بڈاپسٹ میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، جہاں کانفرنس میں موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے ان سے ملاقات کی، اسرائیل نے نژاد کے رہائش اور سفری اخراجات بھی ادا کیے۔رپورٹ کے مطابق یہ مہم اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے پہلے دن احمدی نژاد کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ انھیں مبینہ ’’نظر بندی‘‘ سے آزاد کرایا جا سکے۔ اس حملے کے بعد ایک گاڑی احمدی نژاد کو ایک محفوظ مقام پر لے گئی تاہم بعد میں انھوں نے اسرائیل کے انھیں اقتدار میں لانے کے منصوبے سے مایوس ہو کر وہ محفوظ مقام چھوڑ دیا۔