امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کب شروع ہوگی؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن (14 جولائی 2026): گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی جائے گی، اور واشنگٹن 20 فی صد فیس کے عوض آبنائے ہرمز کا ’’نگہبان‘‘ بن جائے گا۔ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، یہ ناکہ بندی صبح 10 بجے (امریکی مشرقی وقت) سے نافذ ہونی تھی، اور اس کا اطلاق صرف ان بحری جہازوں پر تھا جو ایران جا رہے تھے یا وہاں سے آ رہے تھے۔امریکی سینٹکام نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی کا عمل منگل سے باقاعدہ شروع کر دیا جائے گا اور پاکستانی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات ایک بجے شروع ہوگی، اور کمانڈ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد کرے گی، ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے والے بحری جہازوں کے لیے نقل و حرکت کو برقرار رکھا جائے گا۔ایران کے مختلف شہروں پر امریکی فوج کے فضائی حملے، آبدوز مرمت مرکز پر ڈرون حملہامریکی فوج کے مطابق اس سے قبل 13 اپریل سے 18 جون تک ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی، اس دوران 140 سے زائد بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرائے گئے، اور احکامات کی خلاف ورزی پر 9 بحری جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، جب کہ گزشتہ ناکہ بندی میں انسانی امداد کے 50 سے زائد تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔یاد رہے کہ 22 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جب کہ امریکی محکمۂ دفاع کے اندازے کے مطابق یکم مئی تک ایران کو تیل کی آمدنی میں مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا تھا۔