چنڈی گڑھ: پنجاب اور ہریانہ کے مختلف قومی شاہراہی راستوں پر سفر کرنے والے مسافروں کو اب زیادہ ٹول فیس ادا کرنی ہوگی۔ ہندوستانی قومی شاہراہی اتھارٹی (این ایچ اے آئی) نے 8 اہم ٹول پلازوں پر ٹول فیس میں ترمیم کرتے ہوئے نئی شرحیں نافذ کر دی ہیں، جن کا اطلاق آج سے شروع ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد نجی گاڑیوں، بسوں اور مال بردار ٹرکوں کے ذریعے سفر کرنے والوں کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔نئی شرحوں کے مطابق کاروں، جیپوں اور ہلکی موٹر گاڑیوں کے لیے بیشتر مقامات پر پانچ سے دس روپے تک ٹول فیس بڑھائی گئی ہے، جبکہ بسوں اور ٹرکوں کے لیے بھی فیس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال، آپریشن اور ترقیاتی کاموں کے لیے وقتاً فوقتاً ٹول فیس میں نظرثانی کی جاتی ہے۔ٹول فیس میں اضافے سے سب سے زیادہ اثر چنڈی گڑھ، لدھیانہ، امرتسر، ترن تارن، فریدکوٹ، بھٹنڈہ، ابوہر، مَوڑ اور سنگرور کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے مسافروں پر پڑے گا۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد اور مال بردار گاڑیوں کے آپریٹروں کے اخراجات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔جن ٹول پلازوں کی شرحوں میں تبدیلی کی گئی ہے، ان میں گھلال ٹول پلازا، کوٹ کرور ٹول پلازا، کالا ٹبہ ٹول پلازا، شیخوپورہ ٹول پلازا، لہرا بیگا ٹول پلازا، کھوئیاں سرور ٹول پلازا، کالا جھار ٹول پلازا اور پیند ٹول پلازا شامل ہیں۔ ان تمام ٹول پلازاؤں پر یک طرفہ اور دو طرفہ سفر کے لیے الگ الگ نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔چنڈی گڑھ-کھرڑ-لدھیانہ قومی شاہراہ پر واقع گھلال ٹول پلازا پر کار اور ہلکی موٹر گاڑیوں کے لیے یک طرفہ ٹول فیس 115 روپے اور دو طرفہ سفر کے لیے 170 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح بسوں کے لیے 390 روپے اور ٹرکوں کے لیے 580 روپے ادا کرنے ہوں گے۔امرتسر-ترن تارن-ہریکے-فریدکوٹ-بھٹنڈہ قومی شاہراہ پر واقع کوٹ کرور ٹول پلازا پر کاروں کے لیے یک طرفہ فیس 50 روپے اور دو طرفہ فیس 70 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ بسوں اور ٹرکوں کے لیے بالترتیب 165 اور 250 روپے ادا کرنے ہوں گے۔سنگرور-دوگل کلاں قومی شاہراہ پر واقع پیند ٹول پلازا پر بھی فیس میں اضافہ کیا گیا ہے، جہاں کاروں کے لیے یک طرفہ فیس 95 روپے اور دو طرفہ فیس 145 روپے مقرر کی گئی ہے۔ بسوں اور ٹرکوں کے لیے نئی شرحیں بالترتیب 325 اور 485 روپے ہوں گی۔ ٹول فیس میں اس اضافے کے بعد روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں اور ٹرانسپورٹ کاروبار سے وابستہ افراد کی سفری لاگت میں اضافہ ہونا طے ہے، جس کا اثر بالواسطہ طور پر اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے اخراجات پر بھی پڑ سکتا ہے۔