نئی دہلی: بہار کے ضلع بھوجپور کے رہائشی بھرت بھوشن تیواری کے انکاؤنٹر معاملے میں سپریم کورٹ نے ایک اور عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار کو پہلے پٹنہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں متعلقہ ہائی کورٹ سے قانونی چارہ جوئی کرنا مناسب طریقۂ کار ہے اور ضرورت پڑنے پر بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ درخواست گزار کو پہلے پٹنہ ہائی کورٹ کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر وہاں سے مناسب قانونی راحت حاصل نہ ہو تو آئندہ قانونی راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔یہ عرضی پریا مشرا کی جانب سے ایڈووکیٹ نریندر مشرا نے دائر کی تھی۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھرت بھوشن تیواری انکاؤنٹر معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی نگرانی میں کرائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی ان پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بھی مانگ کی گئی تھی جو انکاؤنٹر میں شامل تھے۔ عرضی میں ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا جو واقعے کے وقت موجود تھے۔بھرت تیواری انکاؤنٹر: سپریم کورٹ کا عرضی پر سماعت سے انکار، ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایتقابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی اسی معاملے میں ایک الگ عرضی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، جس میں انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے مرکزی جانچ بیورو سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وہ عرضی ایڈووکیٹ وشال تیواری نے دائر کی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے اس پر بھی سماعت سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار کو پٹنہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی تھی۔اس سے پہلے جسٹس بی وی ناگرتنا کی سربراہی والی بنچ کے سامنے بھی اس معاملے کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن عدالت نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار کو مقدمہ باقاعدہ طور پر فہرست میں شامل کرانے کے لیے سپریم کورٹ کی رجسٹری سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ: سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار، رجسٹرار سے رجوع کرنے کی ہدایتیاد رہے کہ بھرت بھوشن تیواری کی 17 جون کو بھوجپور میں ایک پولیس انکاؤنٹر کے دوران موت واقع ہوئی تھی۔ اس معاملے میں دائر مختلف عرضیوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انکاؤنٹر میں ہونے والی اموات ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مترادف ہو سکتی ہیں اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ایسے معاملات کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ سپریم کورٹ نے فی الحال اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے متعلقہ فریقین کو پہلے پٹنہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔