کیتن قتل کیس میں کیا ملزمہ سیا گوئل کو بھی سونم کی طرح ضمانت مل جائے گی؟ شواہد، قانون اور پولیس کی تفتیش پر نئے سوالات کھڑے ہوگئے۔بھارت میں 26 سالہ کاروباری شخصیت کیتن اگروال کے قتل کیس نے نئی تفصیلات سامنے آنے کے بعد مزید سنسنی خیز رخ اختیار کر لیا ہے۔بھارت کے ریاست مہاراشٹرا میں پیش آنے والے کیتن قتل کیس نے ایک نئی قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔ میگھالیہ کے سونم قتل کیس میں ملزمہ کو ضمانت ملنے کے بعد اب یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا ملزمہ سیا گوئل بھی اسی طرح عدالت سے ریلیف حاصل کر سکتی ہے یا پولیس اس کے خلاف مضبوط مقدمہ قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت میں چشم دید گواہ نہ ہونے کی صورت میں مقدمے کا فیصلہ صرف شواہد پر مبنی ہوگا، جبکہ پولیس لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کے ذریعے نئے سراغ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ملزمہ سیا گوئل اور اس کے مبینہ ساتھی چیتن کے خلاف قتل کا مقدمہ بظاہر سنگین نوعیت کا ہے، تاہم اس کیس کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے آیا ہے جس میں مبینہ طور پر کیتن کو دھکا دیتے ہوئے دیکھا جاسکے، یہی وجہ ہے کہ مقدمے کی کامیابی کا انحصار حالات کے شواہد پر ہوگا۔رپورٹس کے مطابق سیا اور کیتن کی منگنی ہوچکی تھی اور دونوں کی شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ اسی دوران دونوں خاندانوں کے درمیان ایک اور رشتہ بھی طے ہونے والا تھا، جس کے تحت سیا کے بھائی اور کیتن کی بہن کی شادی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ تاہم کیتن کی ہلاکت نے دونوں خاندانوں کے تمام رشتے ختم کر دیے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ سیا گوئل اپنے مبینہ محبوب چیتن سے شادی کرنا چاہتی تھی، اسی مقصد کے لیے اس نے کیتن کو راستے سے ہٹانے کی سازش کی۔دوسری جانب استغاثہ کا مؤقف ہو سکتا ہے کہ محض تعلق یا محبت کا ہونا قتل کی سازش ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، جب تک اس کے ساتھ ناقابلِ تردید شواہد موجود نہ ہوں۔تفتیشی حکام کے پاس اس وقت دونوں ملزمان کے موبائل فون، کال ریکارڈ، پیغامات، سوشل میڈیا سرگرمیوں، سی سی ٹی وی فوٹیج، گاڑی، اسکوٹر اور اہل خانہ کے بیانات سمیت متعدد تکنیکی شواہد موجود ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام شواہد اس وقت تک مؤثر نہیں ہوں گے جب تک انہیں ایک مضبوط اور مربوط قانونی زنجیر میں نہ جوڑا جائے۔پولیس نے تفتیش کے دوران لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، تاہم بھارتی قانون کے مطابق اس کے لیے عدالت کی اجازت کے ساتھ ملزم کی رضامندی بھی ضروری ہے۔مزید یہ کہ لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کے نتائج خود عدالت میں بطور ثبوت قابل قبول نہیں ہوتے، البتہ اگر اس دوران کوئی نئی معلومات سامنے آئیں تو ان کی بنیاد پر حاصل ہونے والے شواہد کو عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ سیا اور چیتن نے پہلے سے منصوبہ بندی کی، قتل کا واضح مقصد موجود تھا اور اس کی تائید کرنے والے الیکٹرانک یا دیگر شواہد دستیاب ہیں تو عدالت سزا دے سکتی ہے، تاہم اگر شواہد کی اس زنجیر میں کوئی اہم کڑی سامنے نہ آسکی تو مقدمہ کمزور پڑسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ محض کہانی یا قیاس آرائی پر نہیں بلکہ ہر الزام کے ساتھ مضبوط اور قابل اعتماد ثبوت پیش کرنے پر منحصر ہوگا، یہی وجہ ہے کہ پولیس اس کیس میں ہر پہلو سے شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔’کیتن اگروال کو قتل کرنے سے قبل منگیتر نے کیا پڑھا؟‘