امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں ایران کے شہر مناب میں شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول پر امریکی حملوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی، جس میں تقریباً 200 افراد شہید ہوئے تھے جن میں زیادہ تر اسکول کے بچے اور اساتذہ تھے۔منگل کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں، صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران جنگ کے پہلے روز اسکو پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے نتائج جاری کریں گے؟ تو ٹرمپ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ View this post on Instagram A post shared by TREY YINGST (@treyyingst)صدر نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی یہ کہہ سکے گا کہ وہاں کیا ہوا ہے؟ کیونکہ اگر وہ ابھی تک نہیں جانتے کہ وہاں کیا ہوا ہے تو چند ہفتے پہلے تک کوئی کیسے جان سکتا ہے؟ جنگ میں اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں، وہاں ہر جگہ میزائل اڑ رہے تھے اور مجھے نہیں معلوم کہ کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ ہم نے اسے نشانہ بنایا ہے۔ایران میں اسکول پر حملہ جنگی جرم ہے، ہیومن رائٹس واچ کا تحقیقات کا مطالبہاینکر نے پوچھا کے جو مناظر اور تصاویر سامنے آئی ہیں اس سے حقیقت کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا؟ تو ٹرمپ نے تصاویر کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو تصاویر سامنے آئیں وہ اےآئی جنریٹیڈ ہوں گی۔اس واقعے کی سرکاری تفتیش ابھی تک خفیہ ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹرز نے منظرعام پر لانے پر زور دیا ہے جبکہ پینٹاگون نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔ سرکاری طور پر امریکا نے اپنے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اور پس پردہ تفتیش کاروں نے امریکی افواج کے قصور کا اعتراف کیا ہے۔ایران کے مناب اسکول پر اسرائیلی حملہ، شہادتوں کی تعداد 180 ہو گئی