تہران (20 جولائی 2026): امریکا نے پیر کے روز مسلسل نویں دن بھی ایران پر حملے کیے، جب کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے، ایران نے کہا ہے کہ اس نے 2 آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر دھماکے سے تباہ کر دیے ہیں۔روئٹرز کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اردن کے شہر عقبہ میں واقع امریکی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جب کہ کویت کے العدیری کیمپ، علی السالم ایئر بیس اور شام میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور سازوسامان پر بھی حملے کیے گئے۔برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اتوار کی شب بتایا کہ اسے عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، تاہم آگ لگنے کی وجہ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ پاسداران نے پیر کو دعویٰ کیا کہ دو آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دھماکوں کا شکار ہوئے اور ناکارہ ہو گئے۔ ایرانی فوج کا الزام تھا کہ امریکی فوج نے ان جہازوں کو اس راستے کے استعمال کی ترغیب دی تھی۔امریکا 3 فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود سفارتی حل کے لیے تیار ہے، مارکو روبیوامریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے ’’حملوں کی نئی لہر‘‘ شروع کر دی ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اپنے نمائندوں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کی صبح امریکی میزائلوں نے ایران کے متعدد شہروں کو نشانہ بنایا، حملے امام خمینی پورٹ، تبریز، چابہار، سیرک، ہرمزگان، بوشہر اور کونارک میں کیے گئے۔کویت کی حکومت نے کہا کہ مسلسل دوسرے روز بھی ایک ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) پلانٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ حکومت نے اسے اہم شہری بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔