پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز پر وزیر اعظم نریندر مودی افتتاحی تقریر کی۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں ملک کے اہم اور حساس مسائل کو نظر انداز کیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ کی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے حسب معمول ’گھسی پٹی اور کھوکھلی باتوں‘ سے اجلاس کا آغاز کیا، لیکن ان معاملات پر خاموشی اختیار کی جنہیں اپوزیشن پارلیمنٹ میں پوری قوت کے ساتھ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔प्रधानमंत्री ने संसद के मानसून सत्र की शुरुआत हमेशा की तरह अपनी घिसी-पिटी और खोखली बातों से की।लेकिन प्रधानमंत्री ने उन मुद्दों का कोई ज़िक्र नहीं किया, जिन्हें विपक्ष सदन में मजबूती से उठाने के लिए प्रतिबद्ध है-i. अयोध्या के राम मंदिर में RSS-BJP इकोसिस्टम से जुड़े लोगों…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) July 20, 2026جے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آغاز ہمیشہ کی طرح اپنی گھسی پٹی اور کھوکھلی باتوں سے کیا۔ لیکن وزیر اعظم نے ان مسائل کا کوئی ذکر نہیں کیا، جنہیں اپوزیشن ایوان میں مضبوطی سے اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘ اپنی پوسٹ میں انہوں نے ان 5 اہم مسائل کا ذکر کیا جس پر وزیر اعظم نریندر مودی کو بات کرنی چاہیے تھی۔جے رام رمیش کے مطابق وہ 5 اہم مسائل جن پر وزیر اعظم مودی کو بات کرنی چاہیے تھی وہ درج ذیل ہیں:ایودھیا کے رام مندر میں آر ایس ایس-بی جے پی ایکو سسٹم سے جڑے لوگوں کے ذریعے انجام دی گئی عطیات کی چوری اور عقیدت کے ساتھ دھوکہ دہی، جس نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک اور سی بی ایس ای بارہویں کلاس کے بورڈ امتحانات کی بے ضابطگیاں، جس نے نوجوان نسل کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے، اور وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں اس کا محض ایک رسمی ذکر کیا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کو توڑنے کے لیے اپنائے جا رہے گندے ہتھکنڈے اور مالی ترغیبات۔مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں، مودی حکومت میں وزیر مملکت برائے زراعت، وزارت ماحولیات، اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ اور مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے منسلک بدعنوانی اور مفادات کے ٹکراؤ کے معتبر الزامات۔کمپرومائزڈ حد بندی کے عمل، ون نیشن، ون الیکشن کے ہتھکنڈوں اور وی بی ایس اے بل کے ذریعے ہندوستانی جمہوریت اور آئین کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی مودی حکومت کی مسلسل کوششیں۔