طلبا پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کیے جانے سے پرینکا گاندھی ناراض، حکومت سے پوچھا سوال

Wait 5 sec.

ایودھیا کے رام مندر میں چندہ چوری اور جنتر منتر پر جمع مظاہرین طلبا پر پولیس لاٹھی چارج کے خلاف کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے آواز اٹھائی ہے۔ انھوں نے پیر کے روز مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب (پارلیمنٹ میں) بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن وہ مانتے ہی نہیں۔‘‘ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے بھی رام مندر چندہ چوری اور نیٹ-یوجی امتحان کے سوالنامے لیک ہونے جیسے مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث کی اجازت نہ دینے پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔हम सभी एजुकेशन पॉलिसी पर चर्चा की मांग कर रहे हैं, क्योंकि उसमें गड़बड़ी है, लेकिन सरकार चर्चा करने को तैयार ही नहीं है।उल्टा बच्चों पर ही आंसू गैस के गोले छोड़े जा रहे हैं और उन्हें पीटा जा रहा है। : कांग्रेस महासचिव एवं सांसद @priyankagandhi जी pic.twitter.com/R6rSN9p8MP— Congress (@INCIndia) July 20, 2026کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم سب بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تعلیمی پالیسی میں کئی مسائل اور بڑے مسائل ہیں۔ اس کے باوجود آپ اس پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بجائے آپ طلبا پر آنسو گیس کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کی پٹائی کر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ وہ ہمارے بچے ہیں۔‘‘ انھوں نے حکومت اور انتظامیہ کے اس رویہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔دوسری طرف ششی تھرور نے ایک پرانی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنی بات کہنے کا حق ہونا چاہیے، کیونکہ حکومت اپنی منمانی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں اراکین پارلیمنٹ عوام کی آواز اٹھا سکیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ ہزاروں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے مظاہرین نے مبینہ طور پر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے بیریکیڈ توڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد پارلیمنٹ اسٹریٹ کے قریب سیکورٹی اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا، تو تھرور نے کہا کہ ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ سب کس جذبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ جب ایک پرامن احتجاج ہو رہا ہے تو لاٹھی چارج کی کیا وجہ ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لاٹھی چارج عدم تشدد کا عمل نہیں ہے۔ یہ تشدد کا عمل ہے۔ مجھے اس کی منطق سمجھ نہیں آتی۔‘‘#WATCH | Delhi | On CJP protest, Congress MP Shashi Tharoor says, "When a non-violent protest is taking place, what is the reason for a lathi-charge? Lathi charge is not an act of non-violence. It is an act of violence. I don't understand the logic of this. Similarly here in… pic.twitter.com/bgr9ZtkTZF— ANI (@ANI) July 20, 2026تھرور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ’ایودھیا چندہ چوری‘، نیٹ امتحان پرچہ لیک اور کانگریس کی جانب سے شروع کی گئی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت اہم معاملات اٹھانا چاہتی ہے، لیکن حکومت بحث کے لیے تیار نہیں ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ بحث سے کیوں ڈرتے ہیں؟ تھرور نے یہ بھی کہا کہ سب جانتے ہیں یہ پورے ملک میں سلگتے ہوئے مسائل ہیں، اس لیے ان پر بحث کرنا منطقی ہوگا۔ پارلیمنٹ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ہم عوام کی آواز اور عوام کی تشویش کو اٹھا سکتے ہیں اور ایک بار ایسا ہو جانے کے بعد، ہم سب جانتے ہیں کہ حکومت کے پاس اکثریت ہے۔