حماس کے نئے سربراہ کا اعلان ہوگیا

Wait 5 sec.

غزہ(20 جولائی 2026): فلسطینی میں مزاحمتی تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو اپنے سیاسی شعبے کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیل الحیہ کو یہ ذمہ داری تنظیم کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار کی جگہ دی گئی ہے، جو اکتوبر 2024 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران شہید ہو گئے تھے۔حماس کے اندرونی انتخابات کے رن آف مرحلے میں خلیل الحیہ نے سابق سیاسی رہنما خالد مشعل کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔1960 میں غزہ کی پٹی میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ 1987 میں حماس کے قیام کے وقت سے ہی اس کا حصہ ہیں اور ان کا شمار تنظیم کے بانیوں اور سینئر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔حماس کے ذرائع کے مطابق وہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں اخوان المسلمون میں شامل ہوئے تھے، جہاں ان کے ساتھ اسمٰعیل ہنیہ اور یحیٰی سنوار بھی موجود تھے۔وہ حماس کے سیاسی بیورو میں کئی اہم ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور اس وقت تنظیم کے چیف مذاکرات کار کے ساتھ ساتھ شہید یحییٰ سنوار کے نائب کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ غزہ میں وہ طویل جدوجہد کے دوران اسرائیل کی قید بھی کاٹ چکے ہیں۔حماس نے یحییٰ سنوار کی شہادت کی تصدیق کر دیخلیل الحیہ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے ایران اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ انتہائی قریبی اور مضبوط روابط ہیں۔ وہ 7 اکتوبر کے حملوں اور اسرائیلیوں کو یرغمال بنانے کے عمل کا کھل کر دفاع کرتے رہے ہیں۔غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے خلیل الحیہ نے اسرائیلی حملوں میں اپنے کئی قریبی رشتہ دار کھوئے ہیں، جن میں ان کا بڑا بیٹا بھی شامل ہے۔ ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والے خلیل الحیہ کئی جنگ بندی معاہدوں کی کوششوں میں براہِ راست شامل رہے ہیں۔انہوں نے 2014 کے تنازع کے خاتمے اور موجودہ غزہ جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد خلیل الحیہ کا انتخاب حماس کی مستقبل کی سیاسی اور سفارتی حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔