اوم برلا نے شندے کی شیوسینا میں 6 ارکانِ پارلیمنٹ کے انضمام کو دی منظوری، ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان کے بیٹھنے کا الگ انتظام

Wait 5 sec.

نئی دہلی: لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا (یو بی ٹی) کے 6 ارکان پارلیمنٹ کے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں انضمام کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد لوک سبھا میں شندے گروپ کے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے، جبکہ ادھو ٹھاکرے گروپ کے پاس اب صرف تین ارکان باقی رہ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق لوک سبھا سکریٹریٹ نے ان 6 ارکان پارلیمنٹ کے انضمام کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ ان ارکان میں اوم راجے نمبالکر، ناگیش پاٹل آشتیکر، سنجے ہری بھاؤ جادھو، سنجے اُتم راؤ دیشمکھ، بھاؤ صاحب راجارام واکچورے اور سنجے دینا پاٹل شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ ماہ شندے گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔اس کے ساتھ ہی لوک سبھا اسپیکر نے ترنمول کانگریس کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ کی اس درخواست کو بھی منظور کر لیا ہے کہ وہ آئندہ اجلاس کے دوران ایوان میں اپنی سابق جماعت سے الگ نشستوں پر بیٹھ سکیں گے۔ تاہم، ان ارکان کو ’نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا‘ کے ارکان پارلیمنٹ کے طور پر باضابطہ شناخت دی جائے گی یا نہیں، اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے جماعت کا نام اور انتخابی نشان چھینا گیا اور اب ان کے منتخب ارکان پارلیمنٹ کو دوسری جماعت کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں فریقوں کو سنے بغیر فیصلہ سنایا گیا، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔آنند دوبے نے کہا کہ ان کی جماعت کے ارکان اسی جماعت کے نام اور انتخابی نشان پر منتخب ہو کر لوک سبھا پہنچے تھے، اس لیے انہیں کسی دوسری جماعت کے کھاتے میں شامل کرنا جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں عدالتی کارروائی کے سست عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایکناتھ شندے کی شیوسینا نے جسے سیاسی حلقوں میں ’آپریشن ٹائیگر‘ کا نام دیا گیا، اس کے نتیجے میں ادھو ٹھاکرے کی جماعت میں بڑی دراڑ پیدا ہوئی تھی۔ اب لوک سبھا اسپیکر کی منظوری کے بعد یہ سیاسی تبدیلی باضابطہ شکل اختیار کر چکی ہے۔ آنے والے پارلیمانی اجلاس میں اس فیصلے کے اثرات پارلیمانی سیاست اور حکومت و اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔