جے پی سی کی رپورٹ مؤخر ہونا حکومت کی سیاسی و پارلیمانی ناکامی کی علامت: کانگریس

Wait 5 sec.

کانگریس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل دو متنازعہ بلوں پر قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں کی رپورٹوں کی منظوری مؤخر کیے جانے کو مرکزی حکومت کی سیاسی اور پارلیمانی ناکامی قرار دیا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اپنے اتحادیوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہی ہے اور اسی وجہ سے ان بلوں پر اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا۔کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل دو متنازعہ بلوں پر قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں نے اپنی رپورٹوں کی منظوری دینے کے فیصلے کو مؤخر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے ایک بل ایسا ہے جس کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی، جبکہ دوسرا بل آئینی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے۔جے رام رمیش نے کہا کہ ان بلوں سے متعلق حکومت کو گزشتہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے اثرات اب تک برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پارلیمانی حکمت عملی کمزور ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث وہ ان اہم قانون سازی سے متعلق اپنی ہی قائم کردہ کمیٹیوں سے بروقت منظوری حاصل نہیں کر سکی۔انہوں نے مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی دباؤ، دعوؤں اور مختلف حربوں کے باوجود حکومت مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں کی رپورٹوں کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے بقول یہ صورتحال اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت نہ صرف سیاسی سطح پر مشکلات کا شکار ہے بلکہ پارلیمانی امور کو مؤثر انداز میں چلانے میں بھی ناکام رہی ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں اہم اور متنازعہ قانون سازی کے معاملات پر وسیع مشاورت اور آئینی تقاضوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ پارٹی نے اشارہ دیا کہ اگر کسی بل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہو تو اس پر تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ سنجیدہ غور و خوض ناگزیر ہے، جبکہ ایسے کسی بھی قانون کو منظور کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے جو آئین کی روح یا اس کی مقررہ حدود سے متصادم ہو۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جلد شروع ہونے والا ہے اور ان دونوں بلوں سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں کی رپورٹوں کے مؤخر ہونے سے سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو حکومت کی قانون سازی سے متعلق حکمت عملی اور پارلیمانی نظم و نسق کے تناظر میں اہم قرار دے رہی ہیں۔