زہران ممدانی نے نیویارک آمد پر نیتن یاہو کی گرفتاری پر غور شروع کر دیا

Wait 5 sec.

(18 جولائی 2026): میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ نے نیویارک آمد پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو گرفتار کرنے پر غور شروع کر دیا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ غور کر رہی ہے کہ آیا ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کیلیے نیویارک سٹی کا دورہ کرنے پر نیتن یاہو کو گرفتار کیا جائے یا نہیں۔زہران ممدانی نے نیویارک ٹائمز کے پوڈکاسٹ ’دی انٹرویو‘ پر میزبان لولو گارسیا ناوارو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا اصل ٹھکانہ عالمی عدالت انصاف ہے۔میئر نیویارک نے مزید کہا کہ نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ہیں جن پر بین الاقوامی فوجداری عدالت نے فرد جرم عائد کی ہے، اور آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک ایسی رائے ہے جو بہت سے لوگ رکھتے ہیں، اور اس کی خالصتاً وجہ وہ اقدامات ہیں جو انہوں نے گزشتہ کئی سالوں میں کیے ہیں۔یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کو اپنے ہی خفیہ اداروں کے ہاتھوں سبکی کا سامنااگرچہ زہران ممدانی اس ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے نیویارک کے محکمہ قانون کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر واضح نہیں ہیں کہ آیا ان کے پاس نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو نیتن یاہو کی گرفتاری کا حکم دینے کا قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نیویارک سٹی میں قانون مجھے جس چیز کی بھی اجازت دے گا ہم وہی کریں گے، لیکن ہم اس مقصد کیلیے اپنے خود کے قوانین نہیں بنائیں گے۔’نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا زہران ممدانی کے پاس کوئی اختیار نہیں‘دوسری جانب، نیویارک میں اسرائیل کے قونصل جنرل اوفیر اکونیس نے میئر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔اوفیر اکونیس نے کہا کہ ایسے معاملات میں پڑنے کے بجائے ان کیلیے بہتر ہوگا کہ وہ نیویارک سٹی کا نظام چلانا شروع کریں اور صرف نیویارک سٹی پر ہی توجہ دیں۔