تہران (20 جولائی 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کی شہادت کی وجہ ’سیکیورٹی بریچ‘ ہے، اور وہ سیکیورٹی خلا اب بھی موجود ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اُس حملے، جس میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، نے اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں میں موجود ایک ایسے سیکیورٹی خلا کو بے نقاب کیا، جو غالباً آج بھی برقرار ہے۔عباس عراقچی نے اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا باعث بننے والی سکیورٹی خامیوں کو اب تک مکمل طور پر دور نہیں کیا جا سکا۔ اس اعتراف سے ایران کے سیکیورٹی اداروں کی اعلیٰ قیادت کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔انھوں نے قدامت پسند اور حکومت نواز میڈیا شخصیت جواد مقائی کے ساتھ ایک تفصیلی ٹی وی انٹرویو میں کہا ’’چند ہی سیکنڈ میں تہران کے پاستور علاقے میں واقع کمانڈ سینٹر کو تین حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جہاں ایران کے سپریم لیڈر کے دفاتر اور ہیڈکوارٹرز موجود ہیں۔‘‘ایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیانعراقچی نے کہا ’’میرے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ (امریکا اور اسرائیل) کو ان اجلاسوں کی مکمل معلومات تھیں۔ یہ ممکنہ طور پر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ایک سیکیورٹی خلا موجود تھا، اور غالب امکان ہے کہ وہ اب بھی موجود ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ مسئلہ صرف دراندازی تک محدود نہیں تھا۔ ’’کبھی کبھی اس میں فیصلہ سازی کے عمل کی سمت پر اثرانداز ہونا بھی شامل ہوتا ہے۔‘‘ تاہم انھوں نے مزید کہا ’’میں اس بارے میں عوامی سطح پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔‘‘ وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ذاتی طور پر ملاقات نہیں کی۔ ان کے بقول ’’صرف چند ہی افراد نے ان سے ملاقات کی ہے۔‘‘انھوں نے بتایا کہ حملے کے وقت قریبی مقام پر اعلیٰ فوجی قیادت کے اجلاس اور وزارتِ انٹیلی جنس کا ایک اجلاس بھی جاری تھا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران وہ اور ان کے ساتھی وزارت خارجہ ہی میں موجود رہے۔ انھوں نے کہا ’’40 روزہ جنگ کے دوران میں، میرے نائبین، ساتھیوں اور میں نے وزارت خارجہ کی عمارت نہیں چھوڑی۔ کوئی محفوظ جگہ موجود نہیں تھی۔‘‘ عراقچی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جنگ شروع ہونے کے 3 روز بعد انھوں نے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، 5 روز بعد علی لاریجانی سے مشاورت کی، جب کہ چھٹے روز ایک محفوظ مقام پر باضابطہ اجلاس منعقد کیا گیا۔