سونم وانگچک نے جس ’پارلیمنٹ مارچ‘ کا اعلان کیا تھا، اس میں خود تو شریک نہیں ہو پائے ہیں، لیکن سخت سیکورٹی کے باوجود بڑی تعداد میں نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔ دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل وانگچک نے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو ایک چٹھی لکھی ہے، جس میں ڈسچارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے اسپتال کو تحریر کردہ خط میں کہا ہے کہ ’’مجھے پارلیمنٹ مارچ میں شامل ہونا ہے، مجھے ڈسچارج کرو۔‘‘میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم وانگچک نے اس خط میں اسپتال انتظامیہ کو لکھا ہے کہ ’’میں یہ بتانا چاہتا ہوں، آج میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں اور میری صحت کے پیرامیٹر بھی بالکل معمول کے مطابق ہیں۔ اس لیے میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ برائے کرم مجھے اسپتال سے جانے کی اجازت دیں، بھلے ہی کچھ وقت کے لیے، تاکہ میں آج صبح پارلیمنٹ تک ہونے والے مارچ (پارلیمنٹ چلو) میں شامل ہو سکوں۔‘‘ سونم نے اسپتال کو تحریر کردہ اس خط کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ انھوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’سونم وانگچک آپ سب کو ملنے کی بہت کوشش کر رہے ہیں! انھوں نے اسپتال کو خط سونپ دیا ہے، کیونکہ ان کی صحت بہتر ہے اور اسپتال کا دعویٰ ہے کہ وہ حراست میں نہیں ہیں، تو پھر پابندیاں کیوں؟‘‘اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ نوجوانوں کا ایک وفد جلد ہی مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کر سکتا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق حکومت نے خود بات چیت کے لیے مظاہرین نوجوانوں سے رابطہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود مظاہرین نوجوان بڑی تعداد میں پارلیمنٹ کی طرف قدم بڑھا چکے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مظاہرین پارلیمنٹ کے بے حد قریب ریل بھون تک پہنچ گئے ہیں۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے سیکورٹی ایجنسیاں ہائی الرٹ پر آ گئی ہیں۔ ساؤتھ گیٹ سمیت پارلیمنٹ کے 2 داخلی دروازے احتیاطاً بند کر دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ریل بھون اور ٹرانسپورٹ بھون کے پاس ٹیئر گیس اور لگاتار اناؤنسمنٹ کے ذریعہ مظاہرین کو ہٹایا گیا۔ وجئے چوک، رائے سینا روڈ اور پارلیمنٹ کے قریب سی آر پی ایف، پیرا ملٹری اور پارلیمنٹ سیکورٹی فورس کی کثیر تعیناتی رہی۔