دوحہ (15 جولائی 2026): خلیجی ممالک ایران کی جانب سے حملوں پر شدید ناراض ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ جنگ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے، جب کہ قطر اور عمان امریکا کے ساتھ اُس کا تنازع ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے 2 سپر ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں عملے کے 2 ارکان متاثر ہوئے، اور کئی ملاح تاحال لاپتہ ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی خطے کے لیے ایک نئی سیکیورٹی آزمائش پیدا کر دی ہے، ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کے بعد بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن میں فضائی دفاعی نظام دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، جب کہ امریکا نے بھی ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔حالیہ کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی ہے، جب کہ ایران نے امریکی مفادات اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان یہ محاذ آرائی خلیجی ریاستوں کو ایک مشکل صورت حال میں لے آئی ہے، کیوں کہ وہ ایک طرف امریکا کے اہم اتحادی ہیں اور دوسری طرف ایران کے جغرافیائی ہمسائے ہیں۔امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں وسیع فوجی موجودگی خلیجی ممالک کے لیے ایک دوہری حقیقت بن گئی ہے، خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور بحرین، قطر، کویت، اردن، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکی فوجی اڈے خلیجی ممالک کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن اسی موجودگی کی وجہ سے وہ ایرانی حملوں کا ممکنہ ہدف بھی بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک ایک ایسے توازن میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں امریکا کے ساتھ تعلقات ان کی سلامتی کا اہم ستون ہیں، مگر ان ہی تعلقات نے انھیں علاقائی کشیدگی میں شامل بھی کر کے رکھا ہوا ہے۔خلیجی فضائی دفاع کی صلاحیتخلیجی ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جدید فضائی دفاعی نظاموں پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ PAC-3 نظام موجود ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات بھی تھاڈ، پیٹریاٹ اور دیگر جدید دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔ قطر، کویت، بحرین اور عمان نے بھی مختلف نوعیت کے دفاعی نظام حاصل کیے ہیں، جن میں پیٹریاٹ، NASAMS اور دیگر میزائل شکن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔یہ نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا، خصوصاً جب حملہ مسلسل اور طویل مدت تک جاری رہے۔ڈرون جنگ اور دفاعی اخراجات کا مسئلہایران نے کم قیمت والے مقامی ساختہ ڈرونز، خصوصاً شاہد طرز کے ڈرونز، پر نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان ڈرونز کی تیاری مہنگے دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں بہت کم لاگت میں ممکن ہے۔ اس صورت حال نے خلیجی ممالک اور امریکا کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیوں کہ ایک نسبتاً سستا ڈرون روکنے کے لیے کئی ملین ڈالر مالیت کا دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کا مقصد لازماً خلیجی فضائی دفاع کو مکمل طور پر شکست دینا نہیں، بلکہ مسلسل دباؤ کے ذریعے دفاعی ذخائر، اہلکاروں اور لاجسٹک نظام پر بوجھ ڈالنا بھی ہو سکتا ہے۔ایران کے ساتھ تعلقات: جغرافیہ کی مجبوریخلیجی ممالک کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات ایک پیچیدہ مسئلہ ہیں۔ خطے کے یہ ممالک امریکا کے اتحادی ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ ایران ان کا جغرافیائی ہمسایہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 2022 میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے، جب کہ سعودی عرب اور ایران نے 2023 میں چین کی ثالثی سے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ریاستیں سمجھتی ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر سیاسی رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ مستقل محاذ آرائی پورے خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔معاشی خطرات اور آبنائے ہرمزایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی معیشتوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی بحری راستے سے ہوتی ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر خاص طور پر اس صورت حال سے متاثر ہو سکتے ہیں، کیوں کہ ان کی کئی اہم برآمدی بندرگاہیں اسی راستے سے وابستہ ہیں۔ماہرین کے مطابق کوئی بھی طویل جنگ عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خلیجی ممالک کی معاشی سرگرمیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔موجودہ بحران نے خلیجی ممالک کو اپنی دفاعی خودمختاری پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ریاستیں اب مشترکہ ریڈار نظام، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ساتھ ہی وہ اپنی دفاعی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش بھی کر رہی ہیں تاکہ کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار کم کیا جا سکے۔ ممکنہ راستوں میں مقامی دفاعی صنعتوں کی ترقی، یورپی اور ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون اور علاقائی دفاعی معاہدوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔سفارت کاری کا راستہاگرچہ فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن خلیجی ممالک عمومی طور پر ایران کے ساتھ سفارت کاری کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ قطر اور عمان نے ماضی میں ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خلیجی ممالک کا معاشی ماڈل استحکام، تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور عالمی رابطوں پر قائم ہے، اس لیے ایک طویل جنگ ان کے بنیادی مفادات کے خلاف ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں دونوں بڑے فریق دباؤ بڑھا رہے ہیں لیکن مکمل اور طویل جنگ کے نتائج سے بھی گریز کرنا چاہتے ہیں۔ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی نے خطے کے بنیادی سیکیورٹی ڈھانچے کو چیلنج کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس جدید دفاعی نظام، امریکی حمایت اور بڑھتی ہوئی علاقائی شراکت داری موجود ہے، لیکن جغرافیہ انھیں ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر تعلق برقرار رکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔