(16 جولائی 2026): صحت کو سنگین خدشات کے پیشِ نظر مصنوعی رنگوں سے تیار کردہ رنگین پاپڑ کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی۔انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو کے محکمہ فوڈ سیفٹی نے بچوں کی صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مصنوعی رنگوں سے تیار کردہ پاپڑ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا۔محکمہ فوڈ سیفٹی کے حکام نے خبردار کیا کہ پاپڑ میں حد سے زیادہ مقدار میں مصنوعی رنگ شامل ہیں، جو کھانے والوں کی صحت کیلیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ بھی پڑھیں: شوہر کے ’پاپڑ‘ بھولنے پر بیوی روٹھ کر میکے چلی گئیانہوں نے خبردار کیا کہ پاپڑوں میں مصنوعی رنگ دینے والے کیمیکلز کا ضرورت سے زیادہ استعمال نظام ہضم کی خرابیاں، الرجی اور جلد کے مسائل، اور گردوں سے متعلق پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔محکمہ فوڈ سیفٹی نے مشورہ دیا کہ روایتی طور پر تیار کردہ پاپڑوں کو ترجیح دیں جو ماش کی دال اور چاول کے آٹے جیسے قدرتی اجزاء سے بنائے جاتے ہیں، والدین بچوں کیلیے رنگین پاپڑ خریدنے سے گریز کریں۔فوڈ سیفٹی حکام نے واضح کیا کہ قوانین کے تحت مقررہ حدود کے اندر منظور شدہ غذائی رنگوں کا استعمال جائز ہے، لیکن بہت زیادہ یا غیر منظور شدہ رنگوں والی مصنوعات کو فروخت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔