نیویارک : عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی صنعت میں ایک بڑے معاہدے کی تیاری کی جارہی ہے، جہاں امریکی کمپنی اسٹرائپ اور نجی سرمایہ کاری فرم ایڈونٹ انٹرنیشنل نے مشترکہ طور پر ’پے پال‘ کو خریدنے کی پیشکش کر دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں نے اس ماہ کے آغاز میں پے پال کے لیے 60.50 ڈالر فی شیئر کی پیشکش کی، جس کے تحت کمپنی کی مجموعی مالیت 53 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے لیے بینکوں کی جانب سے تقریباً 50 ارب ڈالر کی مالی معاونت بھی یقینی بنائی جاچکی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش پے پال کے منگل کے روز اختتامی شیئرز کی قیمت سے تقریباً 28 فیصد زیادہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اپریل کے اوائل میں بھی ابتدائی رابطہ کیا گیا تھا، تاہم پے پال کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔مجوزہ منصوبے کے تحت اسٹرائپ اور ایڈونٹ انٹرنیشنل پے پال کو تقسیم کرنے کے بجائے مشترکہ طور پر اس کی ملکیت سنبھالیں گے اور دونوں کے پاس کمپنی میں برابر کا حصہ ہوگا۔تاہم ذرائع نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ مذاکرات حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں گے۔واضح رہے کہ پے پال کی بنیاد 1990 کی دہائی کے آخر میں رکھی گئی تھی، پے پال ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے کی ابتدائی اور نمایاں کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ایپل پے، گوگل پے اور دیگر متبادل ادائیگی پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث اسے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 2021 میں تقریباً 360 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی لیکن بعد ازاں مسلسل گراوٹ کے باعث رواں سال یہ کم ہو کر تقریباً 36 ارب ڈالر رہ گئی جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس کی مارکیٹ ویلیو میں 40 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔مارچ میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینریک لوریس کی تقرری کے بعد پے پال نے کاروبار کی تنظیم نو کا آغاز کیا۔ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ عالمی ادائیگیوں کی صنعت میں حالیہ برسوں کا سب سے بڑا انضمام ثابت ہوگا۔مالیاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سرحد پار ادائیگیوں کے بڑھتے رجحان کے باعث دنیا بھر میں ادائیگیوں سے وابستہ کمپنیاں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے انضمام اور خریداری کے معاہدوں میں تیزی سے دلچسپی لے رہی ہیں۔ادھر پے پال کی پہلی سہ ماہی آمدنی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 8.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ کمپنی کی مجموعی ادائیگیوں کا حجم بھی ایک سال کے دوران 8 فیصد بڑھ کر 464 ارب ڈالر ہوگیا۔دوسری جانب نجی ملکیت کی حامل اسٹرائپ دنیا کی قیمتی ترین فن ٹیک کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ فروری میں کمپنی کی مالیت 159 ارب ڈالر لگائی گئی تھی جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 70 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔اسٹرائپ دنیا بھر میں کاروباری اداروں کو آن لائن ادائیگیاں وصول کرنے، رقوم کی منتقلی اور مالیاتی عمل کو خودکار بنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔