نئی دہلی: لکھیم پور کھیری تشدد 2021 معاملے میں گواہوں کو مبینہ طور پر دھمکانے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو اتر پردیش پولیس نے اطلاع دی ہے کہ تحقیقات میں آشیش مشرا اور ان کے والد، سابق مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے ملوث ہونے کا کوئی قابل اعتبار ثبوت نہیں ملا ہے۔آشیش مشرا کی ضمانت سے متعلق عرضی پر سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گواہوں کو دھمکانے کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے، تاہم اس میں نہ تو آشیش مشرا کا نام شامل ہے اور نہ ہی اجے مشرا ٹینی کا۔ سپریم کورٹ نے اس بیان کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کردہ اسٹیٹس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کو دھمکانے سے متعلق درج ایف آئی آر کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور دورانِ تفتیش آشیش مشرا کے خلاف کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر ان کے خلاف فرد جرم عائد کی جا سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس مقدمے میں امان دیپ سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے، جس کا متعلقہ عدالت نے نوٹس بھی لے لیا ہے۔اسٹیٹس رپورٹ کے مطابق اجے مشرا، آشیش مشرا اور دیگر افراد کے مبینہ کردار کی بھی تحقیقات کی گئی تھیں، لیکن ان کے خلاف کسی قسم کے ملوث ہونے کے شواہد دستیاب نہیں ہو سکے۔ سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستی حکومت کی اسٹیٹس رپورٹ کے جواب میں دو ہفتوں کے اندر اضافی حلف نامہ داخل کرے۔واضح رہے کہ گواہوں کو دھمکانے کے الزامات کے سلسلے میں اتر پردیش پولیس نے گزشتہ برس اکتوبر میں مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی تھی جب سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ بلجیندر سنگھ کی شکایت پر مناسب کارروائی نہ ہونے پر پولیس کی سرزنش کی تھی۔ عدالت کی ہدایت کے بعد ایک سینئر پولیس افسر نے پنجاب کے مکتسر جا کر شکایت کنندہ کا بیان قلم بند کیا تھا، جس کے بعد تعزیراتِ ہند کی دفعات 195-اے، 506 اور 120-بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔اصل مقدمہ 3 اکتوبر 2021 کو اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں پیش آنے والے تشدد سے متعلق ہے، جس میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس معاملے میں الزام ہے کہ آشیش مشرا سے مبینہ طور پر وابستہ گاڑیوں کے قافلے نے احتجاج کر رہے کسانوں کو کچل دیا تھا۔ اسی مقدمے میں آشیش مشرا کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور وہ اس وقت سپریم کورٹ سے حاصل کردہ ضمانت پر جیل سے باہر ہیں۔