پولیس کو اچانک اطلاع ملی کہ زیارت کے قریب مانگی ڈیم کے علاقے میں اضافی نفری کی ضرورت ہے، جلدی میں اہلکاروں کا ایک دستہ تشکیل دیا گیا جس میں محمد آصف کا بھی نام شامل کر لیا گیا۔ پولیس اہلکار آصف نے آخری کال میں اپنے بھائی کو بتایا کہ ’یہ لوگ ہمارے پاس پہنچ گئے ہیں اب میں کُچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ ہمیں یرغمال بنا کر ساتھ لے جائیں گے یا یہیں مار دیں گے۔۔۔ ہمارے پاس گولیاں بھی ختم ہو چُکی ہیں۔‘