ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کے لیے مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اب رکن پارلیمنٹ کوئل ملک نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کوئل ملک ٹالی ووڈ کی مقبول اداکارہ ہیں۔ ان کا استعفیٰ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے لیے شدید دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز پارٹی لیڈر مدن مترا نے بھی ممتا کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور رتبرت کے خیمے میں چلے گئے تھے۔ آج رکن پارلیمنٹ کوئل ملک نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے کر پارٹی کو نئی پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔TMC Rajya Sabha MP Koyel Mallick has resigned from the Rajya Sabha pic.twitter.com/iJlWD6lOBD— IANS (@ians_india) July 16, 2026قابل ذکر ہے کہ کوئل ملک کا اصل نام رکمنی ملک ہے۔ وہ ایک معروف بنگالی اداکارہ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ٹالی ووڈ میں ’ٹالی کوئن‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو لکھے گئے اپنے خط میں کوئل ملک نے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہی ہیں۔ براہِ کرم اسے قبول کیا جائے۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے تمام افسران اور ارکان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ کوئل ملک کے استعفیٰ کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے اور نہ ہی انہوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو بھیجے گئے خط میں اس وجہ کا ذکر کیا ہے۔کوئل ملک کے استعفی کے ساتھ ہی ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینے والے اراکین پارلیمنٹ کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے سُکھیندو شیکھر رائے، سشمتا دیو اور پرکاش چک برائک نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا تھا۔ اب اس فہرست میں کوئل ملک کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ لیکن انہوں نے اچانک یہ فیصلہ کیوں لیا، اس بارے میں ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ سُکھیندو شیکھر رائے، سشمتا دیو اور پرکاش چک برائک کے استعفیٰ کے بعد کوئل ملک کے استعفے کی خبر پھیلی تھی۔ لیکن بعد میں یہ خبر غلط ثابت ہوئی تھی۔ اس کے باوجود بنگال کے سیاسی حلقوں میں ان کے استعفیٰ کی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ اب کوئل ملک نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے کر ان قیاس آرائیوں کی تصدیق کر دی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس اراکین کی تعداد 13 سے گھٹ کر 9 ہو چکی ہے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سُکھیندو شیکھر، سشمتا اور پرکاش چک برائک جیسے لیڈران نے نہ صرف راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا بلکہ پارٹی کے تمام عہدوں سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے پارٹی کے تئیں اپنے غصے کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بی جے پی کی رکنیت قبول کر لی۔ یہاں تک کہ تینوں نے بی جے پی کی جانب سے راجیہ سبھا کے لیے دوبارہ نامزدگی بھی داخل کی ہے۔ بنگال کی سیاست میں بحث ہے کہ کوئل بھی اسی راہ پر چل سکتی ہیں، کیونکہ استعفیٰ دینے کے بعد انہیں دہلی میں بی جے پی لیڈر بھوپیندر یادو کے گھر پر دیکھا گیا تھا۔ اس سے ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔