کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے مہاراشٹر حکومت کی مقبول ’لاڈکی بہن یوجنا‘ میں سنگین مالی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ ’کیگ‘ کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبہ کو لوگوں تک پہنچانے میں 3541.16 کروڑ روپے زیادہ خرچ ہوا ہے، ساتھ ہی جمع کھاتوں میں ہزاروں کروڑ روپے پڑے رہنے اور مالیاتی انتظام میں بڑی خامیوں کا بھی پتہ چلا ہے۔ ریاستی اسمبلی میں پیش کی گئی ’کیگ‘ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ خواتین و اطفال بہبود نے منصوبہ میں ہونے والے اضافی خرچ پر کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا ہے۔مہاراشٹر میں لاڈکی بہن یوجنا کی ایڈوانس رقم پر روک، کانگریس کی شکایت پر الیکشن کمیشن کا فیصلہرپورٹ کے مطابق محکمہ خواتین و اطفال کی بہبود نے منظور شدہ 29693.09 کروڑ روپے کے بجٹ کے مقابلے میں 33237.24 کروڑ روپے خرچ کیے، جس سے 3541.16 کروڑ روپے کا اضافی خرچ ہوا۔ اس منصوبے کے لیے کل 29693.09 کروڑ روپے کی گرانٹ دستیاب تھی، جس میں ضمنی التزامات کے ذریعے 26200 کروڑ روپے اور ’لاڈکی بہن یوجنا‘ سے دوبارہ مختص کیے گئے 3490.75 کروڑ روپے شامل تھے۔’کیگ‘ کی 25-2024 ریاستی مالیاتی آڈٹ رپورٹ کے تیسرے باب میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کے مالیاتی معاملات میں صرف چھوٹی موٹی بے ضابطگیاں نہیں ہیں، بلکہ پوری انتظامیہ میں خامیاں ہیں۔ حکومت اب بجٹ سے باہر بہت زیادہ قرض لے رہی ہے۔ پیسہ کہاں اور کیسے خرچ ہوا، اس کا ثبوت وقت پر جمع نہیں کرایا جا رہا ہے۔ بہت زیادہ رقم کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے باہر رکھی جا رہی ہے۔ کئی بل اور کھاتے زیر التوا پڑے ہیں۔ 31 مارچ 2025 تک بجٹ سے باہر کا قرض 28640 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ’کیگ‘ نے یہ بھی بتایا ہے کہ 40097 کروڑ روپے کے 12829 استعمال کے سرٹیفکیٹس (یو سی) اب بھی زیر التوا ہیں۔ یعنی یہ معلوم ہی نہیں ہو پا رہا کہ اتنی بڑی رقم صحیح جگہ پر خرچ ہوئی ہے یا نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو سی (استعمال کے سرٹیفکیٹس) جمع نہ کرنا مہاراشٹر حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے مالیاتی نگرانی اور اندرونی کنٹرول میں خامیاں ظاہر ہو رہی ہیں۔ حکومت اب بھی اے سی بلز (ایبسٹریکٹ کنٹینجنٹ بلز) کا بہت زیادہ استعمال کر رہی ہے۔ 31 مارچ 2025 تک 3532 کروڑ روپے کے 1698 اے سی بلز اب تک زیر التوا ہیں، جن کا حساب کتاب اب تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ صرف مارچ 2025 کے مہینے میں ہی 35.18 کروڑ روپے کے 268 اے سی بلز نکالے گئے۔