تہران (13 جولائی 2026): پاسداران انقلاب نے بحریہ کے لیفٹیننٹ حامد رضا دہقانی سمیت 2 فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کر دی۔آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کے بعد امریکا کے ایران پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں، سینٹ کام نے ایران میں ایک سو چالیس اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ان حملوں کے نتیجے میں پاسداران انقلاب نے جاسک اور بوشہر میں بحریہ کے لیفٹیننٹ حامد رضا دہقانی سمیت دو فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، حملوں کے جواب میں پاسداران انقلاب نے بھی کویت، بحرین، امارات، اردن، قطر اور عمان میں امریکی اہداف کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے امریکی حملوں میں بوشہر کے تین شہروں، صوبہ لرستان کے علاقے ویسیان کو نشانہ بنایا گیا۔ ریشہ میں فوجی بیرکوں اور بندر دیر میں ایک فوجی چوکی میں دھماکے ہوئے۔ کنگان بھی دھماکوں سے گونج اٹھا۔ ہرمزگان کے ساحلی شہر جاسک میں دس سے زائد دھماکے سنے گئے، چاہ بہار کے قریب دو اور قشم جزیرے پر بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا جائے تو ایران کا رد عمل کیا ہوگا؟ کاظم غریب آبادی نے اہم مطالبہ کر دیاامریکی سینٹ کام کا کہنا ہے ایران میں ایک سو چالیس اہداف کو نشانہ بنایا گیا، نئے حملوں کا مقصد ہرمز میں قبرص کے تجارتی جہاز پر حملے پر ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانا تھا۔ رواں ہفتے تین حملوں میں ایران کے تین سو سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔جواب میں پاسداران انقلاب نے اُردن میں سلطان حسن ایئر بیس میں امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹراور ایم کیو ڈرون ہینگر کو تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ قطر میں العدید ایئربیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ عمان کی بندرگاہ دُقم میں لاجسٹک سپورٹ مراکز پر میزائل داغے گئے۔ کویت اور بحرین میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار تنصیب کو نشانہ بنایا۔