تہران (13 جولائی 2026): ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سپریم لیڈر یا اعلیٰ فوجی اور ریاستی عہدے داروں کے قتل پر فیصلہ کُن کارروائی کے قانون بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایرانی پارلیمنٹ یا ایکسپیڈینسی کونسل اعلیٰ قیادت پر قاتلانہ حملے کا فیصلہ کُن جواب کی ضمانت دینے کا قانون پاس کرے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ملک کی اعلیٰ قیادت یا سینئر فوجی و سرکاری عہدیداروں پر کسی بھی ممکنہ حملے کے جواب کے لیے پہلے سے باضابطہ پالیسی ہونی چاہیے۔کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملےانھوں نے کہا سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل یا پارلیمنٹ ایسی پالیسی منظورکرے، جس میں واضح کیا جائے کہ اگر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یا کسی اہم عہدیدار کو نشانہ بنایا جائے تو ایران کا ردِعمل کیا ہوگا؟کاظم غریب آبادی نے کہا پہلے سے فیصلہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حملے کے بعد فوری طور پر نیا فیصلہ نہ کرنا پڑے۔