مسقط (13 جولائی 2026): آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند؟ ساری دنیا کی نظریں اس اہم ترین آبی گزرگار پر مرکوز ہیں، تاہم اس آبنائے پر کنٹرول کی جنگ کے لیے اب ایران اور عمان بھی آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ایک اہم ایرانی عہدیدار نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ عمان تعاون کرے یا نہ کرے، آبنائے ہرمز کی صورت حال اب پہلے جیسی نہیں ہوگی۔ اس سے قبل سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے لیے نئی تجویز دی گئی ہے، کہ اس کو 2 الگ بحری راہداریوں میں بانٹ دیا جائے۔عمان کی جانب کی جنوبی راہداری سے آزادانہ آمد و رفت جاری رکھی جائے، جب کہ ایران کی جانب کی شمالی راہداری استعمال کرنے والے جہازوں کو ایران سے پیشگی اجازت درکار ہوگی، اور مجوزہ معاہدے میں جہازوں پر کسی قسم کا ٹول عائد نہیں ہوگا۔کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملےایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اسٹریٹجک گزرگاہ اور اہم ترین دفاعی اثاثوں میں شامل ہے، ایران اس کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔امریکی سینٹکام کا ایک بیان میں کہنا ہے آبنائے ہرمز عالمی قوانین کی پاسداری کرنے والے جہازوں کے لیے کھلی ہے، ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھتا، آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔سینٹ کام نے ایرانی اعلانات کو بلاجواز جارحیت اور دھمکی آمیز رویہ قرار دیا، ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے عمان کی جانب سے پیش کی گئی دو الگ بحری راہداری والی تجویز فوری قبول نہیں کی ہے۔