’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ہندوستانی ملاحوں کی تعیناتی بند کریں‘، کئی اموات کے بعد ڈی جی ایم اے کی ہدایت

Wait 5 sec.

مغربی ایشیا میں کچھ عرصہ تک امن و سکون کے بعد ایک بار پھر بدامنی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں آنے والی تازہ شدت سے خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس بڑھتے ٹکراؤ اور سیکورٹی خطرات کے پیش نظر کئی طرح کی سیکورٹی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ اب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن (ڈی جی ایم اے) نے جہاز مالکان اور بھرتی ایجنسیوں کو سخت ہدایت دی ہے کہ اگلے حکم تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ہندوستانی ملاحوں کی تعیناتی بند کر دیں۔مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف حادثات اور حملوں میں اسرائیل و امریکہ سے زیادہ ہندوستانی شہری جاں بحقنوٹیکل سرویئر اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ٹیکنیکل) روی سنگھ سکروار کی جانب سے جاری ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جہاز مالکان، جہازوں کے منتظمین اور بھرتی و تقرری خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ اگلے حکم تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ہندوستانی ملاحوں کو تعینات کرنے سے گریز کریں۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں موباسا بی، البہیا، جی ایف ایس گلیکسی، ایم ٹی ویدیان اور الرکیات جیسے تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے واقعات نے تنازعہ سے متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ملاحوں اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ کافی بڑھا دیا ہے۔سکروار نے سرکلر میں آگے کہا ہے کہ ’’خلیج فارس کے خطے میں سیکورٹی کی صورت حال مسلسل نازک بنی ہوئی ہے۔ یہاں بگڑتی صورت حال کے پیش نظر، جس میں ہندوستانی ملاحوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعات اور تنازعے کے دوران تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے بھی شامل ہیں، اب ڈی جی ایم اے اس خطے میں کام کرنے والے جہازوں پر تعینات ہندوستانی ملاحوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بہتر احتیاطی اقدامات کر رہا ہے۔‘‘ دراصل خلیجی خطے میں بحران شروع ہونے کے بعد سے اب تک مغربی ایشیا میں 9 ہندوستانیوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ ایک شخص لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔ مزید 7 ہندوستانی زخمی ہیں۔DGMA directs shipping firms to avoid deploying Indian seafarers via Strait of Hormuz· The Directorate General of Maritime Administration (DGMA) has directed ship owners, ship managers and Recruitment and Placement Service Licence (RPSL) companies to avoid deploying Indian… pic.twitter.com/3F6x8EDXn8— IANS (@ians_india) July 17, 2026بہرحال ڈی جی ایم اے نے اپنے حکم میں سیکورٹی سے متعلق زیادہ محتاط رہنے کی بھی اپیل کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور آس پاس کے آبی علاقے میں کام کرنے والے جہازوں کے مالکان کو اعلیٰ سطح کی سیکورٹی برقرار رکھنی چاہیے، مجاز حکام کی جانب سے جاری بحری سفری انتباہات، سیکورٹی مشوروں اور تازہ ترین معلومات کی مسلسل نگرانی کرنی چاہیے اور انٹرنیشنل شپ اینڈ پورٹ فیسلٹی سیکورٹی کوڈ کے مطابق تمام قابل اطلاق جہاز سیکورٹی اقدامات، جہاز سیکورٹی منصوبوں اور کمپنی کے سیکورٹی طریقۂ کار کو نافذ کرنا چاہیے۔اس ہدایت پر فارورڈ سیمن یونین آف انڈیا کے جنرل سکریٹری منوج یادو نے کہا کہ ’’بحران سے نمٹنے کے لیے اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم قابل خیر مقدم ہوتا ہے۔ لیکن ان لوگوں کو نکالنے یا ان کے محفوظ انخلا کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں جو مغربی ایشیا کے بحران میں اب بھی پھنسے ہوئے ہیں؟‘‘ دراصل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 8 ہندوستانی جہاز خلیج فارس (آبنائے ہرمز کے مغرب) میں موجود ہیں، جن پر 171 ہندوستانی ملاح سوار ہیں۔ 2 دن قبل بدھ کی شام جاری کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانیوں سے متعلق مجموعی طور پر 17 جہاز (جن میں ہندوستانی پرچم والے اور ہندوستان آنے والے غیر ملکی پرچم والے جہاز بھی شامل ہیں) اب بھی خلیج فارس میں موجود ہیں اور انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے نشان زد کر لیا گیا ہے۔