یوکرین میں بڑا بھونچال، صدر زیلنسکی نے اچانک پوری حکومت برطرف کر دی

Wait 5 sec.

کیف (13 جولائی 2026): یوکرین صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے وزیراعظم کو برطرف کیے جانے کے بعد پوری حکومت نے استعفیٰ دے دیا۔روس اور یوکرین میں ساڑھے چار سال سے جاری تنازع کے دوران کیف میں بڑا سیاسی بحران سامنے آیا ہے اور صدر زیلنسکی کی جانب سے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کو برطرف کیے جانے کے بعد پوری حکومت نے استعفیٰ دے دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کی برطرفی کے اعلان کے بعد یوکرین کی پوری حکومت نے استعفیٰ دے دیا ہے۔یوکرین کے قانون کے تحت وزیر اعظم کے استعفیٰ کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوتی ہے اور اس میں پوری حکومت کا استعفیٰ شامل ہوتا ہے۔یولیا سویریڈینکو جنہوں نے ایک سال قبل ہی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا، تاہم زیلنسکی نے ان کے جانشین کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔اس حوالے سے صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حکومت میں یہ تبدیلیاں ملک کی نئی سیاسی حکمت عملی پر موثر انداز میں عمل درآمد کے لیے ضروری ہیں۔زیلنسکی نے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک سال کے دوران انتہائی مؤثر، مستقل مزاج اور ذمہ دارانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دیے۔صدر کے مطابق انہوں نے سویریڈینکو کو ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار کے ساتھ تعلقات سے متعلق نئی ذمہ داری سنبھالنے کی پیشکش بھی کی ہے۔صدر زیلنسکی نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت میں بھی اہم تبدیلیاں کی جائیں گی، تاہم ان تبدیلیوں کی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئیں۔واضح رہے کہ یولیا سویریڈینکو، جو پیشے کے اعتبار سے ماہرِ معاشیات ہیں، جولائی 2025 میں یوکرین کی وزیراعظم مقرر ہوئی تھیں۔ اس سے قبل وہ صدارتی دفتر میں نائب سربراہ، جبکہ کئی برس تک نائب وزیراعظم برائے اقتصادی ترقی و تجارت کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔