ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنما سنجے راؤت نے مہاراشٹر حکومت کی لاڈکی بہن یوجنا میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً ایک کروڑ ایسے افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو اس کے اہل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ان مستفیدین میں تقریباً تیس ہزار مرد اور ہزاروں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو ہر ماہ تقریباً تین ہزار پانچ سو کروڑ روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کو اس بے ضابطگی کا اندازہ تک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی اس پیمانے پر مالی بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جا سکتا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں جو بھی افراد ذمہ دار ہیں، ان کی ذاتی جائیدادیں ضبط کر کے سرکاری خزانے کو ہونے والے نقصان کی وصولی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل افراد کو اس معاملے پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور اگر مناسب کارروائی نہ ہوئی تو ان کی جماعت حکومت کو قانونی نوٹس بھیجے گی۔رام مندر چندہ تنازعہ: کانگریس کی ملک گیر مہم، مختلف شہروں میں پریس کانفرنس، سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہسنجے راؤت نے مزید کہا کہ اگر قانونی نوٹس کے باوجود حکومت نے کوئی مؤثر قدم نہ اٹھایا تو آنے والے دنوں میں عدالت سے رجوع کیا جائے گا تاکہ اس مالی بے ضابطگی کی مکمل تحقیقات کرائی جا سکیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔اس موقع پر انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ہون پروگرام پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہون کا اہتمام اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ بدعنوانیوں اور عوامی غصے سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ ان کے مطابق ایسے مذہبی پروگراموں کے ذریعے اپنے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔رام مندر عطیات تنازعہ: کانگریس نے وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر اٹھائے سوال، ٹرسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہسنجے راؤت نے ایک بار پھر رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی افراد اس معاملے میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے بھی اس معاملے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس وقت رام رکشا آندولن چلا رہی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اسی تحریک کی مخالفت کے لیے ہون کا سہارا لے رہی ہے۔تاہم، سنجے راؤت کے ان تمام الزامات پر خبر لکھے جانے تک مہاراشٹر حکومت یا بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔