ٹرمپ انتظامیہ ایران پر بڑے پیمانے پر بمباری کے لیے تیاری کرنے لگی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (16 جولائی 2026): امریکی قومی سلامتی ٹیم نے ایران پر بڑے پیمانے پر بمباری کی تجویز دے دی ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی حملے پر غور کیا گیا، جو آبنائے ہرمز کے اطراف جاری موجودہ حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہوگا۔صدر ٹرمپ جنگ میں مزید شدت لانے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں تاکہ ایران کو اتنا نقصان پہنچایا جائے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے اور ٹرمپ کے جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات تسلیم کر لے۔ذرائع کے مطابق، سچویشن روم کے اجلاس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی قومی سلامتی کی اعلیٰ ٹیم بھی موجود تھی، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دیگر سینئر حکام شامل تھے۔جنگ کے دوران ایران نے ایسا کیا کیا جو ڈونلڈ ٹرمپ کو اظہار تشکر کرنا پڑا؟اجلاس میں آبنائے ہرمز میں جاری حملوں کے علاوہ ایران کے اندر اہم تزویراتی اہداف پر تباہ کن حملوں کے نئے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ سچویشن روم کے اجلاس سے قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ آئندہ تین دنوں میں امریکی فوج ایران کو ’’سخت نشانہ‘‘ بنائے گی، اور اس کے بعد حملوں میں مزید نمایاں شدت آ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا اگلا ہفتہ ان کے لیے بہت برا ہوگا، کیوں کہ اگلے ہفتے بجلی گھر نشانے پر ہوں گے، پل نشانے پر ہوں گے، اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہ آئے تو ہم ان کے تمام بجلی گھر اور تمام پل تباہ کر دیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پک ایکس ماؤنٹین میں ایران کی مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ ایک گہری زیرِ زمین تنصیب ہے، جس کے بارے میں امریکا اور اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران اسے اپنے جوہری پروگرام کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، اور یہ فضائی حملوں سے محفوظ ہو سکتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بنکر بسٹر بم بہت گہرائی تک مار کر سکتے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ آیا پک ایکس ماؤنٹین ایسے حملوں سے واقعی محفوظ ہے یا نہیں۔انھوں نے مزید کہا ’’ویسے بھی، کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ پک ایکس میں واقعی کچھ کر بھی رہے ہیں یا نہیں۔ یہ صرف ایک امکان ہے۔ ہماری وہاں کیمروں کے ذریعے نگرانی ہے، وہاں بہت کم سرگرمی نظر آ رہی ہے، لیکن اگر معمولی سی بھی سرگرمی ہوئی تو ہم حملہ کریں گے، اور بھرپور حملہ کریں گے۔‘‘