نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک بھر کے بزرگ، شدید بیمار اور جسمانی طور پر معذور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 3 ماہ کے اندر ان کی قبل از وقت رہائی کے لیے نئی پالیسی بنانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ ایسے قیدیوں کے معاملات کو محض قانونی نہیں بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جانا چاہیے اور ان کی زندگی، صحت اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے یہ حکم قومی قانونی خدمات اتھارٹی کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں بڑی تعداد میں ایسے قیدی موجود ہیں جو 70 سال سے زائد عمر کے ہیں یا شدید اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے کئی قیدی مناسب طبی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث ان کی صحت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نئی پالیسی میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ کن قیدیوں کو قبل از وقت رہائی کے لیے اہل قرار دیا جائے گا۔ عدالت نے ’لاعلاج بیماری‘ کی واضح تعریف مقرر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ رہائی کے معاملات میں یکسانیت اور شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی صحت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے آزاد میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ قبل از وقت رہائی سے متعلق درخواستوں پر بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے اور ان کی جلد از جلد سماعت اور فیصلہ یقینی بنایا جائے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ایسے قیدیوں کو طویل عرصے تک غیر ضروری طور پر جیل میں رکھنا ان کے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہے، جس پر ریاستوں کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسٹینڈ اپ کامیڈین سمے رینا کو سپریم کورٹ کی سخت پھٹکار، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے جرمانہسپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ان تمام درخواستوں پر کارروائی ای-پرزنس پورٹل کے ذریعے کی جائے۔ درخواست جمع ہونے سے لے کر طبی معائنہ، جیل حکام کی رپورٹ، میڈیکل بورڈ کی سفارش، متعلقہ کمیٹی کی رائے اور حتمی فیصلے تک کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جائے گا تاکہ پورے عمل میں شفافیت برقرار رہے۔عدالت نے پورٹل میں وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے خودکار انتباہی نظام اور مقررہ مدت کی نگرانی کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی طبی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کی رازداری متاثر نہ ہو۔’یہ میری نہیں، جمہوریت اور آئین کی ناکامی ہے‘، سپریم کورٹ سے عرضی خارج ہونے پر میناکشی نٹراجن کا ردعملسپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے قانون و انصاف کی وزارت، وزارت داخلہ اور قومی اطلاعاتی مرکز کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تکنیکی معاونت، سافٹ ویئر سہولیات اور ضروری تربیت فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے قومی اطلاعاتی مرکز کو ای-پرزنس پورٹل کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنے اور اس کی مستقل دیکھ بھال کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو چھ ماہ کے اندر عمل درآمد سے متعلق حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں نئی پالیسی کی موجودہ صورت حال، رہائی کے لیے نشان زد قیدیوں کی تعداد اور زیر غور درخواستوں کی مکمل تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو جیل اصلاحات اور انسانی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔