جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں مسلسل تیز بارش کے باعث سیلاب آ گیا ہے۔ دریا کا پانی طغیانی پر ہے، جس کے باعث کئی نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے اور عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں میں تشویش بڑھ گئی ہے اور ضلع انتظامیہ نے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ شدید بارش کی وجہ سے اچانک آنے والے سیلاب کے باعث دھرہل ندی میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا، جس کی وجہ سے نیو بس اسٹینڈ بیلا کے علاقے میں پانی پھیل گیا ہے۔ سڑکیں تالاب میں تبدیل ہو گئیں اور پارکنگ ایریا میں سیلاب کا پانی داخل ہونے کی وجہ سے بس اسٹینڈ پر کھڑی کئی گاڑیاں ڈوب گئی ہیں۔An intense spell of rain lashed Rajouri between 1:00 AM and 6:00 AM, triggering flash floods in several areas.The flooding reportedly caused significant damage, including the loss of dozens of vehicles and damage to several structures. pic.twitter.com/WVu2sISRsK— Kashmir Weather (@Kashmir_Weather) July 19, 2026بارش کے دوران بازاروں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے لوگوں کی آمد و رفت متاثر رہی۔ کئی مقامات پر نالیوں کا پانی سڑکوں پر بہنے لگا، جس سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا۔ دکانداروں کو اپنی دکانوں میں داخل ہونے والے پانی کو باہر نکالنے کے لیے کافی مشقت کرنی پڑی۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے پانی نکالنے کے نظام کو مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ضلع انتظامیہ نے لوگوں سے بلا ضرورت سفر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہیں دریاؤں، نالوں اور سیلاب کے خطرے والے علاقوں سے دور رہنے کو کہا گیا ہے۔ دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو الرٹ رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے خطرہ برقرار ہے۔ ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ ان کا سب کچھ بہہ گیا ہے اور ایک خاتون لاپتہ ہے۔ ادھم پور کے چیف میڈیکل آفیسر انل منہاس نے بتایا کہ مانسون کا سیزن شروع ہو چکا ہے اور ان کا محکمہ پوری طرح الرٹ ہے۔ ٹیمیں موسمی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی دورے کر رہی ہیں۔ لوگوں کو پانی میں کلورین ملانے کے بارے میں بیدار کیا جا رہا ہے۔پورے ضلع میں ڈینگو اور ملیریا کے حوالے سے بیداری مہم چلائی جا رہی ہے۔ رواں سال جنوری سے اب تک ڈینگو کے صرف 9 کیسز سامنے آئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر مریض ٹھیک بھی ہو چکے ہیں۔ منہاس نے کہا کہ ہمیں اپنے آس پاس رکا ہوا پانی جمع نہیں ہونے دینا چاہیے اور کولر کا پانی روزانہ بدلنا چاہیے، کیونکہ 2 سے 3 دن میں مچھروں کے لاروا پیدا ہو سکتے ہیں۔مسلسل ہو رہی تیز بارش کی وجہ سے راجوری ضلع میں سیلاب جیسی صورتحال بن گئی ہے۔ کئی نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے، جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور لوگوں میں تشویش کا ماحول ہے۔ ضلع انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے اور پانی سے بھرے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔ ایک اور مقامی باشندے نے بتایا کہ یہاں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور تقریباً 200 سے 250 گاڑیاں لاپتہ ہو گئی ہیں۔ یہ واقعہ علی الصبح تقریباً 3 بجے پیش آیا اور اب بس اسٹینڈ کا تو نام و نشان تک باقی نہیں بچا ہے۔