امریکی معیشت: ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف مزید نیچے گر گیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (19 جولائی 2026): امریکا میں ہونے والے نئے سرویز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معیشت کے محاذ پر شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ تازہ ترین دو قومی سرویز کے مطابق امریکی عوام میں معیشت سے متعلق صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری اپنی اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، حالاں کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی رفتار میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق مختلف سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد اب بھی روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات، اور مجموعی اقتصادی صورت حال سے مطمئن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی معیشت سے متعلق منظوری کی شرح میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ایران کا امریکا سے معاہدہ معطل کرنے کا اعلانسیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات سے قبل معیشت ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔ اگر مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور صارفین کے اخراجات میں نمایاں بہتری نہ آئی تو اس کے اثرات کانگریس کے انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ادھر حالیہ دیگر قومی سرویز میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت ریکارڈ کم سطح کے قریب بتائی گئی ہے، جب کہ بعض پولز میں دیہی ووٹروں اور ریپبلکن حامی حلقوں میں انھیں محدود بہتری بھی ملی ہے۔ تاہم مجموعی رجحان یہی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد معیشت کو اپنی اوّلین تشویش قرار دے رہی ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ افراطِ زر میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن خوراک، رہائش اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث عوام کو معاشی ریلیف کا احساس نہیں ہو رہا، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کی اقتصادی کارکردگی پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔