نیویارک (19 جولائی 2026): نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس 7 میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو ان کی انتظامیہ ان کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور دیگر امریکی میڈیا کے مطابق ظہران ممدانی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس معاملے پر نیویارک سٹی کے لا ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا شہر کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ قانون سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے اور صرف وہی اقدام کریں گے جس کی قانون اجازت دے گا۔ممدانی نے ایک بار پھر اسرائیلی وزیر اعظم کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول نیتن یاہو کا مقام ہیگ ہے، جہاں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) قائم ہے۔امریکی معیشت: ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف مزید نیچے گر گیایاد رہے کہ نومبر 2024 میں آئی سی سی نے غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جسے اسرائیل مسترد کر چکا ہے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے۔ ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کی کوشش کریں گے، تاہم اب بطور میئر انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس حوالے سے ان کے قانونی اختیارات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ممدانی کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ اسرائیلی نمائندوں کا کہنا ہے کہ امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں، اس لیے آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر کسی کارروائی کا قانونی جواز موجود نہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر سکتا ہے، جب کہ حتمی صورت حال کا انحصار ستمبر میں نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ نیویارک اور امریکی حکام کے مؤقف پر ہوگا۔