امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (15 جولائی 2026): امریکا نے منگل کی شب ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 4 بجے ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے جہازوں پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔امریکا اس سے قبل بھی اپریل سے جون کے درمیان ایسی ناکہ بندی نافذ کر چکا ہے، امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت 21 جنگی طیارے اور سیکڑوں ایئر کرافٹ آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔سینٹکام کے مطابق یہ بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران کے بحری راستے کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کریں گے اور ایسے ہر جہاز کو واپس موڑیں گے جس کا ایران سے کسی بھی نوعیت کا تعلق ہو۔تاہم یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ ناکہ بندی سابقہ بحری ناکہ بندی سے مختلف ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں عمان کے راستے سے گزرنے والے جہازوں کو تحفظ بھی فراہم کرے گا۔ایرانی فوج کا کویت میں امریکی لاجسٹکس مرکز تباہ کرنے کا دعویٰ، اردن میں بھی ڈرون حملےاس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا کو اپنی بحری کارروائیوں اور لاجسٹکس کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ایک جانب اسے ان جہازوں کی حفاظت کرنا ہوگی، اور ضرورت پڑنے پر انھیں امریکی منظور شدہ راستے سے بہ حفاظت گزارنے کے لیے ساتھ بھی لے جانا ہوگا، جب کہ دوسری جانب الگ بحری جہاز ایران کے منظور کردہ راستے کی ناکہ بندی کے لیے تعینات کرنا ہوں گے۔امریکا کی جانب سے ایران کی تمام بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے جانے کے بعد بدھ کی صبح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 1.46 ڈالر، یعنی 1.72 فی صد اضافے کے بعد 86.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.11 ڈالر، یعنی 1.4 فی صد اضافے کے ساتھ 80.40 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنی شکست چھپانے کے لیے ایرانی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کا امریکی دعویٰ بے بنیاد ہے۔پاسداران نے کہا کہ کسی جہاز نے ایرانی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش نہیں کی، جہازوں کی جانب سے خلاف ورزی نہ ہونے کے باعث کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ْ