واشنگٹن (15 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ٹول وصول کرنے کا فیصلہ اچانک واپس لے لیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اچانک اپنی پالیسی تبدیل کر دی، انھوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر 20 فی صد فیس عائد کرنے کا منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے۔امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فی صد ری ایمبرسمنٹ فیس عائد نہیں کرے گا، بلکہ اس کی جگہ امریکا میں خلیجی ریاستوں کی سرمایہ کاری ہوگی۔امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دییہ اعلان امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کرنے سے چند گھنٹے قبل کیا گیا۔ یاد رہے کہ پیر کے روز ٹرمپ کی جانب سے اس پالیسی کے اعلان کے بعد امریکی حکام فوری طور پر انتظامات میں مصروف ہو گئے تھے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اس اہم بحری گزرگاہ کا ’’نگہبان‘‘ بنے گا، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فی صد تیل کی رسد گزرتی ہے۔واضح رہے کہ ایران نے امریکی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو روکنے کی کوشش کی ہے اور عمان کے ساحل کے قریب چلنے والے جہازوں پر حملے بھی کیے ہیں، جس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر حملے شروع کر دیے ہیں۔