امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے افغانستان کے شہر ہرات میں طالبان کی جانب سے کی جانے والی سخت گیر مہم کو بے نقاب کیا ہے۔اخبار کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے نظریاتی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خوف کے ماحول نے مقامی معاشی سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہرات میں لباس کے نام پر خواتین اور داڑھی نہ رکھنے پر مردوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔ اس خوف کے باعث خواتین نے گھروں سے نکلنا انتہائی محدود کر دیا ہے اور والدین نے اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف دو روز میں تیس خواتین کو لباس کی مبینہ خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا، جبکہ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ہرات میں اب تک گرفتار ہونے والی خواتین کی تعداد دو سو سے تجاوز کر چکی ہے۔نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ طالبان نے کام، تعلیم اور آزادی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ عاشورہ کے موقع پر شیعہ برادری کی مذہبی رسومات اور جلوسوں کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان کی ان سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے ہرات کے شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور عوامی مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔