سی آئی ایس ایف کا کوئلہ چوری کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 ہفتوں میں تقریباً 1800 میٹرک ٹن کوئلہ ضبط

Wait 5 sec.

نئی دہلی: مرکزی صنعتی سلامتی فورس (سی آئی ایس ایف) نے کوئلہ چوری، غیر قانونی کان کنی اور اسمگلنگ کے خلاف جاری خصوصی مہم کے دوران بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے گزشتہ تین ہفتوں میں 1798.725 میٹرک ٹن غیر قانونی طور پر نکالا گیا، ذخیرہ کیا گیا یا منتقل کیا جا رہا کوئلہ ضبط کر لیا ہے۔ ضبط کیے گئے کوئلے کی تخمینی مالیت تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔سی آئی ایس ایف کے مطابق اس کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر کوئلہ منتقل کرنے میں استعمال ہونے والی 84 گاڑیاں بھی ضبط کی گئی ہیں۔ ان میں بڑے مال بردار ٹرکوں کے علاوہ خصوصی طور پر تبدیل شدہ موٹر سائیکلیں بھی شامل ہیں، جنہیں کوئلہ اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی کان کنی اور کوئلہ اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف 21 براہ راست شکایات بھی درج کرائی گئی ہیں۔یہ خصوصی مہم 5 جولائی 2026 کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد شروع کی گئی۔ اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے "زیرو کول لیکیج" کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کوئلہ چوری، غیر قانونی کان کنی اور اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کی غرض سے مؤثر اور وقت مقررہ کارروائی کی ہدایت دی گئی تھی۔سی آئی ایس ایف نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ، دھنباد سے 1063.91 میٹرک ٹن، ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ، شیتل پور سے 450.13 میٹرک ٹن اور سینٹرل کول فیلڈز لمیٹڈ، رانچی اور سی ایم پی (ایچ) سے 284.715 میٹرک ٹن کوئلہ ضبط کیا گیا۔فورس کے مطابق معدنیات اور کان کنی (ترقی و ضابطہ کاری) ایکٹ 1957 کے تحت نامزد افسران کو حاصل خصوصی قانونی اختیارات اس مہم کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مجاز افسران کو براہ راست مجاز عدالت میں شکایت درج کرانے، تلاشی لینے اور غیر قانونی طور پر نکالے گئے معدنیات کے ذخیرہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔سی آئی ایس ایف نے واضح کیا کہ کارروائیوں میں انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات، بند سرکٹ کیمروں کی نگرانی، کوئلے کی نقل و حمل کی حقیقی وقت میں نگرانی اور مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں سے مدد لی جا رہی ہے۔ حساس مقامات کی نشاندہی کر کے کوئلہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔فورس کے مطابق اسمگلروں کی جانب سے بڑے ٹرکوں کے ساتھ ساتھ تبدیل شدہ موٹر سائیکلوں کے ذریعے بھی چھوٹی مقدار میں کوئلہ منتقل کیا جا رہا تھا، جس کا انکشاف ضبط شدہ گاڑیوں سے ہوا ہے۔ تمام ضبط شدہ گاڑیوں کو قانونی کارروائی کے لیے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔سی آئی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ فورس آئندہ بھی جدید ٹیکنالوجی، خفیہ اطلاعات اور اپنے قانونی اختیارات کے مؤثر استعمال کے ذریعے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر "زیرو کول لیکیج" کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔