تہران (16 جولائی 2026): ایران کی وزارتِ صحت نے حالیہ امریکی حملوں کے آغاز سے اب تک کی تازہ جانی نقصان کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک 300 سے زائد افراد زخمی اور کم از کم 35 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے امریکی حملوں کا ایک اور (پانچواں) سلسلہ رات بھر جاری رہا، جن میں مختلف اہم اور تزویراتی مقامات کو ہدف بنایا گیا۔الجزیرہ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع سب سے بڑے جزیرے قشم اور بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح ملک کی ایک اور اہم بندرگاہی شہر سیرک سے بھی دھماکوں کی خبریں ہیں، جو آبنائے ہرمز پر واقع ہے۔ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں، جن میں چابہار، کنارک اور راسک شہر شامل ہیں۔امریکا ایران جنگ، ایک دوسرے پر مسلسل پانچویں رات حملے، 7 ایرانی فوجی شہیداہواز میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کئی دھماکے رپورٹ ہوئے، جن میں سے ایک میں ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، حملے کے بعد متاثر ہونے والے اسپتال کو خالی کرا لیا گیا، جب کہ بچوں کے کینسر کے علاج کے اسپتال کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے جوابی کارروائی کے تحت خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ادھر اقوام متحدہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر شدید اظہار تشویش کیا ہے، یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا امریکا و ایران میں کشیدگی عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، بڑھتی ہوئی کشیدگی کے عالمی معیشت کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں، مکمل پیمانے پر جنگ چھڑی تو شہریوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا، اس لیے دونوں ملکوں کو مزید کشیدگی سے گریز کی ضرورت ہے۔