لندن(17 جولائی 2026): برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ہاؤس آف لارڈز کے لیے 26 نئے ارکان نامزد کر دیے ہیں، جس میں لندن کے میئر صادق خان کو ہاؤس آف لارڈز کا تاحیات رکن نامزد کرنا بھی شامل ہے۔صادق خان کی ہاؤس آف لارڈز میں نامزدگی کیئر اسٹارمر کے بطور وزیراعظم آخری بڑے فیصلوں میں سے ایک ہے۔ اس تاریخی نامزدگی کے بعد صادق خان اب برطانوی ایوانِ بالا (ہاؤس آف لارڈز) میں قانون سازی کے عمل پر ووٹ دینے کا حق حاصل کر چکے ہیں۔صادق خان اس وقت لندن کے میئر کی حیثیت سے اپنی تیسری مدت کی آدھی مدت پوری کر چکے ہیں۔ سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ صادق خان کے لیے ہاؤس آف لارڈز کا تاحیات رکن بننا ایک بڑا اور تاریخی اعزاز ہے۔کیئر اسٹارمر کی جانب سے نامزد کیے گئے 26 ارکان میں سے 16 کا تعلق لیبر پارٹی جبکہ 5 کا لبرل ڈیموکریٹس سے ہے۔ ان نامزدگیوں میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور عسکری رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس سب کے باوجود، برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں اب بھی قدامت پسندوں (کنزرویٹوز) کی برتری برقرار ہے۔دوسری جانب دائیں بازو کی جماعت ‘ریفارم یوکے’ کو لارڈز کی ان نئی نامزدگیوں میں کوئی نشست حاصل نہیں ہو سکی۔ اس فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ریفارم یوکے کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ نئی نامزدگیاں ہاؤس آف لارڈز کو عوام کے لیے مزید غیر نمائندہ بنا رہی ہیں۔