’ہم ہمارا حق مانگتے، نہیں کسی سے بھیک مانگتے‘، کانگریس نے شیئر کی سرکاری اسکول کی مظاہرین طالبات کی ویڈیو

Wait 5 sec.

راجستھان کے ایک سرکاری اسکول کو اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالات اس قدر فکر انگیز ہیں کہ طالبات کو آگے بڑھ کر احتجاجی مظاہرہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اس مظاہرے کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ ویڈیو میں اسکول کی سبھی طالبات ’ہم ہمارا حق مانگتے، نہیں کسی سے بھیک مانگتے‘ نعرہ بلند کرتی ہوئی دکھائی پڑ رہی ہیں۔ درجنوں طالبات کے پیچھے کئی طلبا بھی احتجاجی مظاہرے میں شامل دکھائی دے رہے ہیں۔"हम हमारा हक मांगतेनहीं किसी से भीख मांगते"- ये गूंजते नारे राजस्थान में शिक्षा व्यवस्था की पोल खोल रहे हैं। जालोर में एक सरकारी स्कूल की छात्राएं शिक्षकों की कमी के कारण विरोध प्रदर्शन कर रही हैं। छात्राओं का कहना है कि स्कूल में शिक्षक न होने की वजह से पढ़ाई नहीं होती।… pic.twitter.com/WhE5UpwdIE— Congress (@INCIndia) July 17, 2026اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’ہم ہمارا حق مانگتے، نہیں کسی سے بھیک مانگتے... یہ گونجتے نعرے راجستھان میں تعلیمی نظام کی قلعی کھول رہے ہیں۔‘‘ اس بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’جالور میں ایک سرکاری اسکول کی طالبات اساتذہ کی کمی کے سبب احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ طالبات کا کہنا ہے کہ اسکول میں اساتذہ کے نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی نہیں ہوتی۔ پورا اسکول 4-2 اساتذہ کے بھروسے ہی چل رہا ہے۔‘‘اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے بی جے پی حکومت کو نااہل قرار دیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت میں نظامِ تعلیم صرف کاغذات میں ہی درست ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں اوسطاً ہر دن 25 سرکاری اسکول بند ہوئے ہیں۔‘‘ آگے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’بی جے پی نے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ لیکن حکومت یاد رکھے، کروڑوں بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کو عوام معاف نہیں کرے گی۔‘‘چھاتروں کی گونج: تعلیم کو ’وصولی سسٹم‘ بنانے کے خلاف راہل گاندھی کا آج دہرادون میں پروگرام، نوجوانوں میں زبردست جوشکانگریس کے ذریعہ شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک طالبہ اسکول کے تعلیمی نظام کی قلعی کھولتی ہوئی دکھائی بھی دے رہی ہے۔ وہ بتا رہی ہے کہ ’’محکمہ تعلیم اور حکومت سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اساتذہ کی فراہمی ہو۔ دوسرے درجہ میں ایک بھی استاد نہیں ہے۔ پہلے درجہ میں 2 اساتذہ ہیں، ایک ہندی کے اور ایک تاریخ کے۔ تاریخ کے جو استاد ہیں وہ پرنسپل کی ذمہ داری بھی سنبھال رہے ہیں۔ انھیں وقت ملتا ہے تبھی پڑھاتے ہیں، لیکن ان کے پاس دفتر کے بہت سارے کام ہوتے ہیں۔‘‘ طالبہ کچھ دیگر درجات میں بھی اساتذہ نہ ہونے کی بات کہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ساتھ ہی متنبہ کرتی ہے کہ جلد اساتذہ فراہم کیے جائیں، ورنہ اسکول کا تالا بند رہے گا۔ مطالبات پر غور نہ کیے جانے کی صورت میں طالبہ سبھی طالبات کے ساتھ سڑک کو بلاک کرنے کا عزم بھی ظاہر کرتی ہے۔