امریکا نے طلبا اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، نئی پابندیاں نافذ

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکا نے طلبا اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے ، اب ویزوں کے لیے مقررہ مدت ہوگی۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ، ثقافتی تبادلہ پروگرام کے شرکا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری نئے حتمی قواعد کے تحت اسٹوڈنٹ، ایکسچینج وزیٹر اور صحافی ویزوں کے لیے اب مقررہ مدت ہوگی، جبکہ اس سے قبل یہ ویزے تعلیمی پروگرام یا ملازمت کی مدت تک مؤثر رہتے تھے۔نئے قواعد کے تحت طلبہ اور ایکسچینج وزیٹرز کے ویزوں کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ غیر ملکی صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ 240 دن کا ویزا دیا جائے گا۔چینی صحافیوں کے لیے یہ مدت 90 دن مقرر کی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ویزا ہولڈرز توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے۔نئے ضوابط کے تحت گریجویٹ طلبہ بغیر اجازت اپنی تعلیمی منزل تبدیل نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں منتقل ہو سکیں گے۔اسی طرح تعلیم یا تربیت مکمل ہونے کے بعد امریکا چھوڑنے کے لیے دی جانے والی مہلت بھی 60 دن سے کم کر کے 30 دن کر دی گئی ہے، اگر اس دوران طالب علم کو اسپانسر کرنے والا آجر نہ ملا تو اسے امریکا چھوڑنا ہوگا یا ویزا میں توسیع کے لیے درخواست دینا ہوگی۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا تھا کہ 2024 میں 18 لاکھ سے زائد طلبہ نے امریکا میں داخلہ لیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔ اسی مالی سال کے دوران 5 لاکھ سے زائد ایکسچینج وزیٹرز اور 37 ہزار 300 غیر ملکی صحافیوں کو بھی ویزے جاری کیے گئے۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی طلبہ اور وزیٹرز کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث ان کی مؤثر نگرانی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، اسی لیے نئے قواعد متعارف کرائے جا رہے ہیں۔