عام لوگ ہوں یا مشہور شخصیات، سائبر ٹھگ کسی کو نہیں بخش رہے! شائنا این سی کے نام پر فراڈ

Wait 5 sec.

ممبئی میں پیش آنے والے ایک تازہ سائبر فراڈ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آج کے دور میں نہ صرف عام لوگ بلکہ مشہور شخصیات بھی سائبر مجرموں کے نشانے پر ہیں۔ سائبر ٹھگ اب معروف سیاسی اور سماجی شخصیات کے نام اور ساکھ کا فائدہ اٹھا کر ان کے جاننے والوں کو دھوکا دے رہے ہیں اور چند لمحوں میں بڑی رقم ہتھیانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔شیوسینا کی قومی ترجمان شائنا این سی کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو سائبر مجرموں نے ہیک کر لیا اور ان کے رابطوں میں شامل افراد کو مالی مدد کے نام پر پیغامات بھیجے۔ پیغامات میں فوری طور پر 49 ہزار روپے منتقل کرنے کی درخواست کی گئی اور یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ دو گھنوں کے اندر پوری رقم واپس کر دی جائے گی۔ چونکہ پیغامات شائنا این سی کے ذاتی نمبر سے بھیجے گئے تھے، اس لیے متعدد افراد نے انہیں حقیقی سمجھتے ہوئے رقم منتقل کر دی۔پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات میں کم از کم 8 افراد کے ساتھ فراڈ کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سے ہر ایک نے 49 ہزار روپے منتقل کیے۔ اس طرح سائبر مجرم تقریباً 3 لاکھ 92 ہزار روپے ہتھیانے میں کامیاب رہے۔سائبر کرائم: جعلسازوں نے لوگوں کی جیب سے نکالے 480 کروڑ روپے، 150 کروڑ روپئے ہی بچا سکی دہلی پولیسShiv Sena leader and national spokesperson Shaina NC's WhatsApp account was allegedly hacked, with cyber fraudsters posing as her to seek financial help from her contacts. At least eight people reportedly transferred ₹49,000 each after receiving messages claiming the money would… pic.twitter.com/0TfVhvmNCx— IANS (@ians_india) July 17, 2026شائنا این سی نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کی اطلاع ملی، انہوں نے فوری طور پر پولیس کو آگاہ کیا اور سائبر مجرم کے گوگل پے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کی درخواست بھی کی۔ ان کے مطابق دوپہر تقریباً دو بجے شکایت درج کرا دی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود سائبر ٹھگ کئی گھنٹوں تک لوگوں سے رابطہ کرتے رہے اور شام تک رقم منتقل ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے۔سابق وزیر اعظم کے بیٹے سے سائبر ٹھگی، کمپنی کو 7.8 کروڑ کی چپت، 4 کروڑ روپے منجمد شائنا این سی نے 16 جولائی کو اپنے سوشل میڈیا پیغام میں عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا واٹس ایپ ہیک ہو چکا ہے، لہٰذا اگر ان کے نمبر سے کسی قسم کی مالی مدد یا رقم منتقل کرنے کی درخواست موصول ہو تو اسے مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ کسی بھی مشتبہ پیغام کا جواب نہ دیں، کسی لنک پر کلک نہ کریں اور نہ ہی کوئی رقم منتقل کریں۔