رام مندر چندہ تنازعہ: وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ میں خاموشی توڑیں، کانگریس کا مطالبہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر یں مبینہ طور پر چندے کی خرد برد کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ میں وضاحت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ چونکہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے قیام کا اعلان وزیر اعظم نے خود لوک سبھا میں کیا تھا، اس لیے انہیں اس معاملے پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہیے اور اپنی خاموشی توڑنی چاہیے۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور پارٹی کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے کہا کہ 5 فروری 2020 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق، وزیر اعظم کی قیادت میں قائم ہونے والے اس ٹرسٹ سے کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات وابستہ ہیں، اس لیے اس کے کام کاج سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب بھی حکومت کو دینا چاہیے۔جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ کی سرگرمیوں نے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ٹرسٹ کو وزیر اعظم نے بڑے فخر کے ساتھ قائم کیا تھا، اسی پر اب چندے کی خرد برد اور عقیدت کے ساتھ دھوکے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے یہ واضح کرنا چاہیے کہ آخر ٹرسٹ میں ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے یہ تنازعہ پیدا ہوا۔خیال رہے کہ رام مندر میں موصول ہونے والے چندے میں مبینہ خرد برد کا معاملہ گزشتہ ماہ منظر عام پر آیا تھا، جس کے بعد اتر پردیش حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ اب تک اس معاملے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹرسٹ کے دو عہدیدار مستعفی ہو چکے ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں نے مبینہ طور پر چندے کی رقم سے متعلق نقد رقم بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 23 جون کو اپنی ابتدائی نو صفحات پر مشتمل رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی تھی، جس کے بعد اس معاملے میں مزید کارروائی شروع ہوئی۔ ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے نے اپنے استعفے کے بعد کہا تھا کہ وہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی عوامی طور پر اس معاملے پر اپنا موقف پیش کریں گے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ خفیہ ابتدائی رپورٹ عوام تک کیسے پہنچی۔یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ کی نگرانی میں بھی ہے۔ 13 جولائی کو سپریم کورٹ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو اپنی تفتیش سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی اور ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے منصفانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم پیر کے روز سپریم کورٹ میں عبوری اسٹیٹس رپورٹ پیش کر سکتی ہے۔